BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کو گرفتار کیا جائے گا: پاکستان
 میجر جنرل شوکت سلطان
میجر جنرل شوکت سلطان نے یہ بیان امریکی نیٹ ورک میں اپنے حوالے سے یہ تبصرہ نشر ہونے کے بعد جاری کیا ہے
پاکستان کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ اگر اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے رہنما ملک میں ہوئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

میجر جنرل شوکت سلطان نے یہ بیان امریکی نیٹ ورک میں اپنے حوالے سے یہ تبصرہ نشر ہونے کے بعد جاری کیا ہے کہ ’اسامہ بن لادن ایک پُر امن شہری کے طور پر آزاد رہ سکتے ہیں‘۔


اے بی سی نیوز نے ان کا یہ انٹرویو اس وقت ریکارڈ کیا تھا جب پاکستانی حکومت افغان سرحد کے قریب طالبان کے حامیوں سے مفاہمت کا ایک سمجھوتہ کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بن لادن اور القاعدہ کے رہنما اسی علاقے میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

جنرل سلطان نے بدھ کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیئے جانے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی پالیسی پر قائم ہے اور اسامہ بن لادن کو اگر پاکستان میں کہیں بھی گرفتار کیا گیا تو انصاف کے روبرو ضرور لایا جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس طرح دراصل طالبان اور القاعدہ کے رہنماؤں کو پاکستان میں پناہ گاہ فراہم کی گئی ہے۔

میجر جنرل سطان کا انٹرویو شمالی وزیرسطان میں مذکورہ متنازع مفاہمت پر دستخط کے کئی گھنٹے بعد نشر کیا گیا۔

اس مفاہمت کے تحت قبائلیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی شدت پسندوں کو نکال دیں گے اور بین السرحدی حملے نہیں کریں گے جس کے بدلے میں فوجی موجودگی کم کر دی جائے گی۔

ایسی تصویر کو دیکھنے سے خیال کیا جاتا ہے کہ بن لادن اور القاعدہ کے رہنما اسی علاقے میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

قبائلیوں نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے کہ جو غیر ملکی شدت پسند علاقہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے انہیں امن مفاہمت کا احترام کرنا ہو گا۔

لیکن کئی مبصرین اس پر یقین نہیں کرتے کہ مفاہت پر عمل ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں وہ جنوبی وزیرستان میں ہونے والی مفاہمت کا حولہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے بقول طالبان کے حامیوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں۔

اے بی سی نے اپنی ویب سائٹ پر نشر کیئے گئے انٹرویو کا جو متن جاری کیا ہے اس میں جنرل سلطان خود اپنی ہی تردید کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

سوال: اگر بن لادن یا ظواہری علاقے میں ہوئے تو کیا وہ رہ سکیں گے؟

جواب: اس طرح کا کوئی نہیں رہ سکتا۔ اگر اس طرح کو کوئی ہے تو اسے ہتھیار ڈالنا ہو گے، اسے اچھے شہری کی طرح رہنا ہو گا۔ اس کے تمام کوائف اور آمد و رفت کے بارے میں حکام کو آگاہ رکھنا ہو گا۔

سوال: تو اس کا مطلب یہ ہوا کے انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا؟ وہ وہاں رہ سکیں گے؟

جواب: نہیں، جب تک کوئی امن سے رہتا ہے اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی رہے گا اسے پُرامن شہری کے طور پر رہنا ہو گا اور اسے کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

میجر جنرل سلطان کے تبصرے کے بعد واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا حوالہ ’انتہائی غلط دیا گیا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسامہ بن لادن کے بارے میں اپنے عزم پر پہلے کی طرح برقرار ہے اور ’اگر وہ پاکستان میں ہوئے ، آج یا کسی بھی وقت تو انہیں گرفتار کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائیں گے‘۔

جنگ بندی کتنی موثر
بالآخر شمالی وزیرستان سے اچھی خبر آئی ہے
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
عبداللہ محسودعبداللہ محسود کون؟
گونتانامو کا سابق اسیر پھر میدان جنگ میں
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگجنوبی وزیرستان
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگ
نیک محمدسوداگر طالب
نیک محمد کے طالبان سے پرانے تعلقات تھے
’ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘
قبائلی سردار نیک محمد کا خصوصی انٹرویو
اسی بارے میں
سات سکیورٹی اہلکار ہلاک
26 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد