BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 August, 2006, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی نامہ نگار کے بھائی کا قتل

کئی حلقوں کا خیال ہے کہ علاقے میں فوجی آپریشن کے بعد سے یہاں سرکاری رٹ ختم ہوگئی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے چھوٹے بھائی تیمور خان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ کی صبح جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مضافات میں کڑی کوٹ کے علاقے میں پیش آیا۔ پندرہ سالہ تیمور خان وزیر زیر تعلیم تھے۔

ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس قتل کی وجہ ابھی واضح نہیں تاہم انہوں نے کسی خاندانی یا قبائلی دشمنی سے بھی انکار کیا ہے۔

اس سے قبل دلاور خان وزیر کو بھی دھمکیاں ملی تھیں اور ان کے مکان کے پاس بم دھماکہ بھی کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔ ان ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیگر مقامی صحافیوں کی طرح وانا سے نقل مکانی کر لی تھی۔

افغانستان کے ساتھ سرحد سے ملحق جنوبی وزیرستان میں گزشتہ کئی برسوں سے مقامی لوگوں کے مطابق ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا ایک سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ اس دوران کئی اہم سرکردہ قبائلی شخصیات کو مارا جا چکا ہے۔

یہ سلسلہ حکومت کی جانب سے علاقے میں روپوش القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ہوا ہے۔ کئی حلقوں کا حکومت پر الزام ہے کہ اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے اس علاقے میں سرکاری رٹ تقریباً ختم ہوگئی ہے۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ مقامی قبائل کے ساتھ امن معاہدوں کے بعد جنوبی وزیرستان میں امن و عامہ کی صورتحال اب قدرے بہتر ہے۔

اسی بارے میں
وزیرستان: دس قیدی رہا
26 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد