BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگے کی ’طالبان‘ سے دوسری ملاقات

قبائلی عمائدین
قبائلی عمائدین جرگے میں شرکت کے لیئے آ رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان جرگے کے ذریعے مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی شرائط پر عمل درآمد کے بعد ہی حکومت کے ساتھ مکمل فوجی انخلاء جیسی مشکل شرط پر باضابطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیئے قائم پینتالیس رکنی جرگے نے فریقین سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جرگے کے اراکین نے ہفتے کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب خٹی کلی میں مقامی طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ یہ مقامی جنگـجوؤں سے جرگے کی دوسری ملاقات ہے۔

مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی ملاقات میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ان کے امیر گل بہادر اور حکومت کو مطلوب مولانا صادق نور بھی شامل تھے۔

بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ شمالی وزیرستان سے مکمل فوجی انخلاء جیسے مسئلے پر بات چیت بعد میں ہوگی تاہم فی الحال ان کی دیگر شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں سکیورٹی فورسز کی نئی چوکیوں کا خاتمہ اور علاقے سے گرفتار تمام قبائلیوں کی رہائی شامل ہے۔

 بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ شمالی وزیرستان سے مکمل فوجی انخلاء جیسے مسلے پر بات چیت بعد میں ہوگی تاہم فی الحال ان کی دیگر شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں سیکورٹی فورسز کی نئی چوکیوں کا خاتمہ اور علاقے سے گرفتار تمام قبائلیوں کی رہائی شامل ہے۔

حکومت نے ان شرائط پر جزوی عمل درآمد سو سے زائد افراد کی گزشتہ دنوں رہائی سے کیا ہے۔ البتہ مقامی طالبان تمام نئی چوکیوں کے خاتمے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عبداللہ کے بقول جرگے نے انہیں ان شرائط پر عمل درآمد آئندہ چند روز میں کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ توقع ہے کہ جرگہ اب پشاور میں گورنر سے ملاقات کرے گا۔

حکومت نے مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد قبائلیوں کی مراعات بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سو سے زائد قبائلی رہا بھی کیئے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں یہ جرگہ کسی پائیدار حل تک پہنچ پاتا ہے یا نہیں یہ تو بعد میں معلوم ہوگا تاہم اب تک کی پیش رفت پر فریقین اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں جو ایک بڑی مثبت تبدیلی ہے۔

اسی بارے میں
سات سکیورٹی اہلکار ہلاک
26 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد