وزیرستان میں قبائیل میں لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائیلی علاقہ وزیرستان میں پہاڑی ملکیت پر شمالی وزیرستان کے وزیرقبائل اور جنوبی وزیرستان کے محسود قبا ئیل میں شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔ جمعہ کے شام تک لڑائی میں پانچ افراد ہلاک جبکہ سات افراد شدید زخمی ہوچکے تھے۔ شمالی وزیرستان کی پولٹیکل انتظامیہ کے مطابق افغان باڈرکے قریب شوال کے علاقےمیں جانی خیل وزیراورملک شاھی محسود قبائل کے درمیان اس وقت شدید لڑائی شروع ہوگئی ھیں جب مصالحتی جرگہ ناکام ہوگیا۔ جرگے کے ناکامی کے بعد دونوں قبائل نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیارسے حملےشروع کردئےہیں جس کے نتیجہ اب تک جانی خیل قبائل کےچارافراد ہلاک جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک نوعمرلڑکی بھی شامل ہے دوسری جانب ملک شاھی محسود قبائل کے سے تعلق رکھنے والا ایک شخصو شاہ پل ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق میرانشاہ میرعلی بکا خیل سےمسلح لوگ شوال پہنچ رہے ہیں اور اس طرح ملک شاھی محسود کے قبیلےکے لوگ بھی مسلح ہوکرشوال پہنچ رہےہیں۔ فائربندی کے لئے شمالی وزیرستان اورجنوبی وزیرستان کی پولٹیکل انتظامیہ کی مشترکہ کوشش بھی جاری ہیں اور شام گئے ایک جرگہ شوال راونہ کیا گیاہے تاکہ دونوں فریقین کوفائربندی پرآمادہ کیا جاسکے۔ جنوبی وزیرستان اورشمالی وزیرستان کے سنگم پرواقع شوال کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے اورگھنے جنگلات میں روسی انقلاب کے تربیتی کیمپ اور اب پاکستانی فوج کی طرف سے غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی کی وجہ سے اس علاقے کا نام میڈیا میں مسلسل آتا رہتا ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: جنگ بندی میں توسیع25 August, 2006 | پاکستان انگور اڈہ میں ایک اور قبائلی ہلاک10 August, 2006 | پاکستان جرگے کی ’طالبان‘ سے دوسری ملاقات30 July, 2006 | پاکستان وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: دو فوجی ہلاک27 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||