BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 August, 2006, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: جنگ بندی میں توسیع

سابق کور کمانڈر علی جان اورکزئی کی تعیناتی کے بعد وزیرستان میں مذاکرات کا عمل شروع ہوا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے عارضی جنگ بندی میں دس ستمبر تک پندرہ روز کا اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے یہ اعلان آج مسئلہ کے حل کے لیئے قائم گرینڈ جرگے سے ایک ملاقات میں کیا۔ جرگے اور طالبان میں یہ ملاقات خٹے کلی میں ہوئی۔

جرگے نے اس کے جواب میں طالبان کے دس ساتھیوں کو رہا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ جنگجو شدت پسندوں کے حوالے جرگہ خود کرے گا۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ گرینڈ جرگے کی درخواست پر کیا ہے۔

یہ اعلان مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی میں کی گئی ایک ماہ کی توسیع کے خاتمے پر آج کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق جرگے نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ان کے دس ساتھیوں کی رہائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ مقامی طالبان کے ترجمان نے اب تک جرگے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں سست روی سے کام لے رہی ہے۔

اس سوچ کا اظہار طالبان کے امیر نے جرگے سے بھی کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام مسائل پر اتفاق ہوچکا ہے تاہم معلوم نہیں حکومت کیوں تاخیری حربے اپنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرگے کا ہر فیصلہ ان کو قبول ہوگا کیونکہ انہوں نے قبائلی روایت کے مطابق اسے اپنی جانب فیصلے کا حق پہلے دن سے دیا ہوا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی کو دو ماہ ہوچکے ہیں تاہم اس دوران مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فریقین نے بات چیت میں پیش رفت کے اشارے دیئے ہیں البتہ یہ واضع نہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں امن معاہدہ کب سامنے آئے گا۔

اس عارضی جنگ بندی کے ابتدائی دنوں میں بھی مقامی طالبان نے حکومت سے سست روی کی شکایت کی تھی۔

شمالی وزیرستان کے لوگ اس معاہدے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جس سے انہیں امید ہے کہ علاقے میں مستقل اور مکمل جنگ بندی ممکن ہوسکے گی۔ میرعلی تحصیل میں جمعیت علما اسلام کے رہنما مولانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ لوگ جلد سے جلد پائیدار امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

مقامی طالبان نے جنگ بندی کے اعلان کے وقت جو شرائط سامنے رکھی تھیں ان میں تمام اہم گرفتار قبائلیوں کی رہائی، علاقے سے سکیورٹی فورسز کی نئی چوکیوں کا خاتمہ اور قبائلیوں کی مراعات بحال کرنا شامل تھیں۔

تاہم مبصرین کے خیال میں امن معاہدے کی راہ میں اصل پیچیدہ مسئلہ مقامی طالبان کا فوج کے علاقے سے انخلاء کا مطالبہ ہے۔ اس پر حکومت کے رضامند ہونے کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے جبکہ یہ واضع نہیں مقامی طالبان اس پر کتنی لچک دکھانے کو تیار ہوسکتے ہیں۔

طالبان کےترجمان کا تاہم کہنا تھا کہ انہیں جرگے نے اس بابت بھی مثبت ردعمل کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ’ہمیں اب بھی چوکی پر فوجی نظر آتے ہیں جوکہ ہمیں قبول نہیں۔ ہمیں صاف راستہ چاہیے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد