اٹھاون طالبان افغانستان کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے 58 طالبان اتوار کے روز افغانستان کے حوالے کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ملحقہ افغانستان کے سرحدی ٹاؤن سپن بولدک میں ایک تقریب منقعد ہوئی جس میں بڑے پیمانے پر دونوں ممالک کے اعلٰی حکام نے شرکت کی۔ چمن کے ضلعی آفیسر بشیراحمد کے مطابق ان طالبان کو افغان سرحدی امور کے انچارج مولوی گلالئے کے سپرد کر دیےگئے ہیں۔ مذکورہ آفیسرکے مطابق ان افغان طالبان کو سخت سکیورٹی کے تحت گزشتہ شب کوئٹہ سے چمن لایا گیا تھا۔ واضع رہے کہ بلوچستان پولیس نے چند دنوں قبل دارالحکومت کوئٹہ سے 200 سے زیادہ افغان طالبان کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلانے کافیصلہ کیا تھا۔ بلوچستان پولیس کےسربراہ چوہدری یعقوب کے مطابق یہ تمام افغانی طالبان غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی پاسپورٹ یا دوسرے سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ آئی جی پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے بعض طالبان کے بارے میں پاکستانی خفیہ اداروں کے یہ رپورٹ تھی کہ وہ افغانستان میں تخریبی کاروائیوں میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ کوئٹہ کے مختلف مدرسوں افغان طالبان کی گرفتاری پر صوبائی حکومت میں شامل پاکستان کی مذہبی جماعت یعنی جمعیت علمائے اسلام نے شدید احتجاج بھی کیاہے اور کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر پاکستانی طالبان ہیں جو کسی دہشت گردی میں ملوث نہیں تھے بلکہ دینی تعلیم کے حصول کےلیے مدارس میں زیرتعلیم تھے۔ یاد رہے کہ جمعیت نے افغان طالبان کی گرفتاری کے خلاف 30 جولائی کو کوئٹہ میں ایک احتجاجی جلسہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہےـ اے آئی جی اظہر رشید نے کوئٹہ میں بی بی سی کو بتایا کہ باقی افغان طالبان کو بھی آ ئندہ چند دنوں میں افغان حکومت کے حوالے کیاجائےگا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے 14 March, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان میں غالب کون؟08 May, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان بیس غیرملکی ’گرفتار‘ 23 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایف سی کے چار اہلکار رہا22 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||