BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 16:39 GMT 21:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: ایف سی کے چار اہلکار رہا

وزیرستان میں برسوں طالبان کا اثر و رسوخ زیادہ ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے جنگ بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی ہے اور اس کے ساتھ تین ماہ قبل اغوا کیے گئے ایف سی کے چار اہلکاروں کو بھی رہا کردیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹرز میران شاہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز پہلی دفعہ مقامی طالبان اور حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ گرینڈ جرگے کے اراکین کے مابین نورک قلعے میں مذاکرات شروع ہوئے۔

جرگے کے مطالبے پر مقامی طالبان جاری جنگ بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع پر رضامند ہوگئے اور جنگ بندی جو پچیس جولائی کو ختم ہورہی تھی اب پچیس اگست تک جاری رہے گی۔ پشاور میں سرکاری ذرائع نے جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کردی ہے۔

طالبان کی جانب سے مولانا صادق نور اور گل بہادر نے مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے وزیرستان میں مزید سات قیدیوں کی رہائی اور مزید چیک پوسٹوں کو ختم کرانے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔ اب تک بتیس قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے اور چھ چیک پوسٹوں کو بھی ختم کیا گیا ہے۔

ادھر طالبان نے تین ماہ قبل اغواء کیے گئے ایف سی کے چار اہلکاروں کو خیرسگالی کے طورپر حکام کے حوالے کردیا ہے۔ شوال سکاؤٹس کے چار اہلکاروں کو تین ماہ قبل رزمک روڈ سے اغواء کیا گیا تھا۔ ان میں دو محسود قبیلے اور دو کا بٹنی اور خٹک اقوام سے تعلق بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
وزیرستان: سات فوجی زخمی
15 June, 2006 | پاکستان
سات سکیورٹی اہلکار ہلاک
26 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد