وزیرستان: ایف سی کے چار اہلکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے جنگ بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی ہے اور اس کے ساتھ تین ماہ قبل اغوا کیے گئے ایف سی کے چار اہلکاروں کو بھی رہا کردیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹرز میران شاہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز پہلی دفعہ مقامی طالبان اور حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ گرینڈ جرگے کے اراکین کے مابین نورک قلعے میں مذاکرات شروع ہوئے۔ جرگے کے مطالبے پر مقامی طالبان جاری جنگ بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع پر رضامند ہوگئے اور جنگ بندی جو پچیس جولائی کو ختم ہورہی تھی اب پچیس اگست تک جاری رہے گی۔ پشاور میں سرکاری ذرائع نے جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کردی ہے۔ طالبان کی جانب سے مولانا صادق نور اور گل بہادر نے مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے وزیرستان میں مزید سات قیدیوں کی رہائی اور مزید چیک پوسٹوں کو ختم کرانے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔ اب تک بتیس قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے اور چھ چیک پوسٹوں کو بھی ختم کیا گیا ہے۔ ادھر طالبان نے تین ماہ قبل اغواء کیے گئے ایف سی کے چار اہلکاروں کو خیرسگالی کے طورپر حکام کے حوالے کردیا ہے۔ شوال سکاؤٹس کے چار اہلکاروں کو تین ماہ قبل رزمک روڈ سے اغواء کیا گیا تھا۔ ان میں دو محسود قبیلے اور دو کا بٹنی اور خٹک اقوام سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں حکومتی حمایت یافتہ سردار کا قتل30 May, 2006 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، تین اہلکار ہلاک04 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی حملےمیں18 ہلاک10 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی زخمی15 June, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان سے اچھی خبر26 June, 2006 | پاکستان سات سکیورٹی اہلکار ہلاک26 June, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||