BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 June, 2006, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: سات فوجی زخمی

وزیرستان میں سیکیورٹی دستوں کے ارکان گشت کرتے ہوئے
فوجیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے گولی چلا دی جس سے ایک عورت ہلاک ہوگئی: عینی شاہدین
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں ایک فوجی اور ایک عورت سمیت تین افراد ہلاک جبکہ سات فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں پہلا واقعہ بدھ کی رات صدر مقام میران شاہ میں فوجی کیمپ کے قریب پیش آیا۔ مقامی حکام کے مطابق چار مشکوک افراد آرمی کیمپ کے قریب گزر رہے تھے کہ فوجیوں نے ان پر گولی چلا دی جس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ باقی تین افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

مرنے والے شخص کی لاش حکام نے قبضے میں لے لی ہے تاہم ابھی اس کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں آج صبح میران شاہ سے تقریبا دس کلومیٹر دور احمدخیل کے مقام پر سڑک کی نگرانی کر رہے نیم فوجی ملیشیا فرنٹیر کور کے دو سپاہی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے شدید زخمی ہوگئے۔

تاہم ذیادہ خطرناک واقعہ میران شاہ سے دتہ خیل جا رہے ایک قافلے کو آج دو پہر پیش آیا۔ قافلہ نے تقریبا تین کلومیٹر کا سفر ہی کیا تھا کہ درپہ خیل کے علاقے میں باردوی سرنگ سے ٹکرانے تین فوجی زخمی جبکہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس واقعہ کے بعد عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے گولی چلا دی جس سے ایک عورت ہلاک ہوگئی۔ فوجیوں نے دو افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

مقامی طالبان نے آج دونوں باردوی سرنگوں کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ درپہ خیل کے واقعے میں فوجی ہلاک بھی ہوئے ہیں تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کا ان سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان کے ہی سپن وام علاقے میں ٹل سے میرعلی جا رہے ایک فوجی قافلے کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے اور بعد میں مشتبہ شدت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

بعد میں فوجیوں کی مدد کے لیئے گن شپ ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں پروازیں کرتے رہے۔

ادھر پشاور میں آج جاری کیئے گئے ایک بیان میں گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل علی جان اورکزئی نے اس خبروں کی باضابطہ تردید کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی افسران کو بطور پولیٹکل ایجنٹ تعنیات کیا جا رہا ہے۔

گورنر کے ترجمان کے مطابق موجودہ سویلین افسران اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دے رہے ہیں اور اس تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد