BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: جرگے نے کام شروع کردیا

جرگہ فائل فوٹو
وزیرستان میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیئے گرینڈ جرگے کا قیام عمل میں لایا گیا
حکومت کی طرف سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امن کی بحالی اور مقامی طالبان سے مصالحت کرانے کے لیئے تشکیل کردہ گرینڈ قبائلی جرگے
نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

پینتالیس اراکین پر مشتمل یہ جرگہ بدھ کو پشاور سے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کےلیئے روانہ ہوا تھا۔

جرگے کے اراکین نے بدھ کو پشاور میں صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی سے ملاقات کی۔

گرینڈ جرگے کے قیام اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس سال اپریل کے مہینے میں گورنر ہاؤس پشاور میں فاٹا کے بڑے قبائلی جرگے سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے قبائلی زعماء کی اس تجویز سے اتفاق کیا تھا کہ وزیرستان میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیئے قبائلی روایات کو بروئے کار لایا جائے۔اسی لیئے قبائلی عمائدین کی تجویز پر اس گرینڈ جرگے کا قیام عمل میں لایا گیا۔

گورنر سرحد نے جرگے کے اراکین سے ملاقات میں اس توقع کا اظہار کیا کہ جرگہ تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے مقاصد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں بحالی امن کے لیئے قبائلی رسم و رواج اور روایات کو بروئے کار لایا جائے گا اور اسی مقصد کے لیئے گرینڈ جرگہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

علی محمد جان نے جرگے کو بتایا کہ وزیرستان میں جاری شورش اور بدامنی کو بند کرنا ہوگا اورعلاقے میں موجود غیر ملکی عناصر کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ باعزت طور پر پاکستان کی سرزمین سے نکل جائیں۔

علی محمد جان اورکزئی نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیئے ایک بڑے منصوبے پر کام کررہی ہے جس کے تحت اگلے دس سالوں میں فاٹا میں تقریبًا ایک سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

 وزیرستان میں جاری شورش اور بدامنی کو بند کرنا ہوگا اورعلاقے میں موجود غیر ملکی عناصر کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ باعزت طور پر پاکستان کی سرزمین سے نکل جائیں
محمد علی حان اورکزئی

جرگے میں تمام قبائلی ایجنسیوں اور فرنٹیر ریجنز کے سرکردہ زعماء کے علاوہ علماء کرام اوراراکین پارلمینٹ بھی شامل ہیں۔

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے جرگے کے ایک رکن وارث خان آفریدی نے
بی بی سی کو بتایا کہ جب خلیل الرحمان گورنر تھے تب بھی انہیں جرگے میں مدعو کیا گیا تھا لیکن اس وقت جرگے کے اختیار کے بارے میں گورنر تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے۔

انہوں نے کہا یہی سوال اس دفعہ بھی گورنر سے ملاقات کے دوران دہرایا گیا لیکن جواب میں گورنر نے بتایا کہ یہ بااختیار جرگہ ہے اور اس کو مینڈیٹ حاصل ہے کہ مقامی طالبان اور قبائلیوں کے جو مطالبات ہیں ان پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ پچیس جون کو شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا گورنر سرحد نے خیرمقدم کیا تھا۔

جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگجنوبی وزیرستان
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگ
 اسلحہ القاعدہ کو نکالو
شمالی وزیرستانیوں کو فوجی کارروائی کی دھمکی
وزیرستان وزیرستان کا سچ
سرکار، قبائلی ملک اور ملا کا محتاج میڈیا
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
جنگ بندی کتنی موثر
بالآخر شمالی وزیرستان سے اچھی خبر آئی ہے
اسی بارے میں
وزیرستان: سات فوجی زخمی
15 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد