وزیرستان:لواحقین میں دو کروڑ تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے سرکاری اہلکاروں اور حکومت کے حامی قبائلی عمائدین کے لواحقین میں پشاور میں دو کڑوڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ، طالبان اور ان کے حامیوں کے خلاف کیئے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران سینکڑوں قبائلیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں قبائلی زخمی بھی ہوئے تھے۔ ان متاثرین میں معاوضے کی رقم کی تقسیم کا سلسلہ گزشتہ دنوں صدر مقام وانا سے شروع ہوا۔ پہلے مرحلے میں پندرہ قبائلیوں میں پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم تقسیم کی گئی تھی۔ سنیچر کو گورنر ہاؤس پشاور میں دوسرے مرحلے میں مزید پچاس افراد کو یہ امداد دی گئی۔ جن کے لواحقین میں رقم تقسیم کی گئی وہ یا تو سرکاری ملازم تھے یا پھر جنوبی وزیرستان کے حکومت کے حمایت حامی ملک مانے جاتے تھے۔ گورنر سرحد خلیل الرحمان نے دو کڑوڑ روپے سے زائد کی مالیت کے یہ پچاس چیک لواحقین میں تقسیم کیئے۔ ان میں پانچ لاکھ روپے ہلاک ہونے والوں جبکہ دو لاکھ روپے شدید زخمی افراد کے لواحقین کو دیے گئے۔ اس موقع پر اپنی تقریر میں گورنر نے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا اور حکومت کی بھرپور امداد کا یقین دلایا۔ کئی قبائلیوں کو اب بھی شکایت ہے کہ حکومت نے یہ امداد کافی تاخیر سے تقسیم کی ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: پچھتر لاکھ روپے تقسیم10 May, 2006 | پاکستان میران شاہ: مدرسہ بم سے اڑا دیا گیا 15 March, 2006 | پاکستان ’قبائلی انتہاپسندی کا حل تیز تر ترقی‘09 May, 2006 | پاکستان وزیرستان کا سچ معلوم نہیں19 April, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان میں غالب کون؟08 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||