BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبائلی انتہاپسندی کا حل تیز تر ترقی‘

صدر اور وزیرِاعظم
اجلاس میں صدر اور وزیرِاعظم سمیت اعلٰی حکام شریک ہوئے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِاعظم شوکت عزیز نے ایک اجلاس میں قبائلی علاقوں میں انتہاپسندی کے خاتمے اور علاقے کی ترقی اور سیاسی اور انتظامی اصلاحات کرنے پر غور کیا ہے۔

ادھر ملک کے ایوان بالا میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حکومتی حمایت یافتہ سینیٹروں نے قبائلی علاقوں میں امن وامان اور ترقیاتی کاموں کے بارے میں اعتماد میں نہ لیئے جانے کے بعد حکومت کی حمایت سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت راولپنڈی میں منگل کو قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں ہونے والے اعلٰی سطحی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری انتہا پسندی کو صرف تیز تر ترقی اور قبائلیوں کی معاشی صورتحال بہتر بنانے سے ہی روکا جا سکتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے اس اجلاس کے دوران کہا کہ قبائلی علاقوں کے بیشتر عوام اعتدال پسند اور ترقی کے حامی ہیں مگر ان کو مٹھی بھر انتہا پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ صدر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں روزگار کے مواقع، صحت اور تعلیم کی سہولیات دینے سے ہی وہاں ترقی ہو گی۔

’قبائلی علاقوں کے بیشتر عوام اعتدال پسند اور ترقی کے حامی ہیں ‘

اس اجلاس میں صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور دیگر وزرا بھی شریک تھے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر امتیاز صاحبزادہ نے قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

ادھر آج پارلیمنٹ لاجز میں قبائلی علاقوں سے حکومت کے حمایت یافتہ چار سینیٹروں حمیداللہ جان آفریدی، حافظ عبدالمالک قادری،رشید خان اور عبدالرازق خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کے سلسلے میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے ممبران سے کوئی مشورہ نہیں لیا جاتااور ان علاقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی ممبران کو کچھ نہیں بتایا جاتا۔

ان سینیٹروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے انہیں ایک ہفتے تک ان تمام معاملات پر اعتماد میں نہیں لیا تو وہ حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
فاٹا: کونسلروں کی دھمکی
21 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد