حکومتی بالادستی ہرحال میں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے تمام غیر ملکی شدت پسندوں کو نکالنے تک کارروائی جاری رہے گی۔ بدھ کے روز قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تعمیر و ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اجلاس میں گورنر سرحد کے علاوہ داخلہ، صنعتوں، پانی و بجلی اور سرحدی امور کے متعلق وزراء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں ’فاٹا‘ کے علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور وہاں تعمیر نو کے منصوبے کے تحت صنعتیں لگانے اور انہیں مراعات دینے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صدر نے اس موقع پر کہا کہ شدت پسندانہ کارروائیاں کرنے والوں کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور حکومت کی بالادستی ہر حال میں بحال رکھی جائےگی۔ صدر نے سیکورٹی فورسز کے کردار کو سراہا اور جدید اسلحہ اور مانیٹرنگ کے لیے مطلوبہ آلات فراہم کرنے سمیت انہیں سہولتیں دینے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ ان دنوں شمالی وزیرستان ایجنسی میں شدت پسندوں اور سیکورٹی فورسز میں جھڑپیں آئے دن کا معمول ہے اور حکومت نے وہاں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے مدرسے اور دیگر عمارتیں بھی تباہ کردی ہیں۔ شمالی وزیرستان کے شہر میران شاہ میں شام سے صبح تک کرفیو نافذ ہے اور گردو نواح سے سینکڑوں لوگ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نقل مکانی کرگئے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||