BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں کی ہلاکت: جرگے کا فیصلہ

گورنر سرحد کپٹن یحییٰ کے چچا کے ساتھ فاتحہ خوانی کر رہے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی قبائل نے حکومت کی جانب سے آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے میں ملوث افراد کو حوالے کرنے کے مطالبے کے جواب میں حکومت کو بطور ضمانت دس افراد حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم اس مسلہ کا حتمی حل اب عید کے بعد سولہ جنوری کو ایک اور جرگے میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

شمالی وزیرستان میں حکومت اور اتمانزئی قبیلے کے درمیان علاقے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے ایک بڑا جرگہ آج میران شاہ میں منعقد ہوا۔ مقامی انتظامیہ کے علاوہ اس اجلاس میں فوج کے کمانڈر میجر جنرل اکرم ساہی نے بھی شرکت کی۔

تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں اتمانزئی قبیلے نے حکومت کو اس معاملے کے حتمی حل تک دس افراد بطور ضمانت حوالے کرنے کی درخواست کی جو حکام نے قبول کر لی۔ یہ پیشکش علاقائی ذمہ داری کے مقامی قانون کے تحت قبائل نے کی۔

تاہم اس مسئلے کا حتمی حل تلاش کرنے کے لئے ایک اور جرگہ عید کے بعد سولہ جنوری کو منعقد ہوگا۔

جرگے میں شریک فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینٹر متین نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ حملہ رات دو بجے ہوا اس لئے انہیں نہیں معلوم حملہ آور کون تھے۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جرگے کے فیصلے سے علاقے میں کشیدگی میں کمی آئے گی۔

ادھر آج صبح سِ حکام نے تادیبی کارروائی کے طور پر میر علی بازار کی تقریبا تین ہزار دوکانیں بند کر دیں اور گاڑیوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد رکھی ہے۔

میرعلی کے مضافات میں ھسوخیل گاؤں میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ دن بارہ بجے حکومت کی جانب سے قبائلیوں کو مہلت کے خاتمے کے تقریبا ایک گھنٹے بعد دو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے علاقے کا چکر لگایا تاہم کوئی حملہ نہیں کیا۔

حکام نے خسوخیل اور میر علی کے درمیان سڑک بھی بند کر رکھی ہے اور علاقے میں دو افراد سے زائد کے جمع ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کی دوپہر ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تاہم اس خبر کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے مقامی قبائل کو آٹھ فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث افراد حوالے کرنے کے لئے کل چوبیس گھنٹے کی مہلت دی تھی جو اتوار کی دوپہر ختم ہوگئی۔

کئی قبائلیوں نے بی بی سی سے میران شاہ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے سرحدی قصبے سیدگئی میں ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے۔ ایک شخص نے اپنا نام اقبال خان بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سرحد پار خوست سے آئے امریکی فوجیوں کی کارروائی دیکھی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس قسم کے واقعات روکنے میں ناکام ہوچکی ہے تو قبائلیوں کو اجازت دیں وہ خود اپنی سرزمین کا دفاع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنائے جانے والے مکان میں کوئی غیرملکی نہیں تھا اور سب مقامی لوگ تھے۔

سیدگئی کے واقعے پر حکومت اور فوج نے مسلسل چپ سادھی ہوئی ہے۔ ہفتے کے روز فوج کے ترجمان میجر جنرل سوکت سلطان کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

پشاور میں گورنر سرحد خلیل الرحمان اور کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل حامد خان کے درمیان شمالی وزیرستان کی صورتحال پر غور ہوا اور حکومت کے اس عزم کو دھرایا گیا کہ علاقے پر ہر قیمت پر حکومت کی عملداری قائم کی جائے گی۔

میر علی کے قریب چوکی پر حملے میں جمعے کی رات ہلاک ہونے والے فرنٹئر کور کے آٹھ اپلکاروں میں ایک کپتان یحیی جان اور جونیر کمیشنڈ افسران شامل تھے۔ کپٹن یحیی جان کا تعلق پشاور کے مضافات میں سوڑیزئی گاؤں سے ہے۔

اسی بارے میں
فوجیوں کی ہلاکت، مہلت ختم
08 January, 2006 | پاکستان
وزیرستان میں مزید ہلاکتیں
07 January, 2006 | پاکستان
وانا میں فائرنگ سے سات ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
دو فوجیوں کی لاشیں برآمد
08 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد