BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 July, 2006, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: دو بااثر قبائلی سردار رہا

دونوں سرداروں پر القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام تھا
حکومت نے ایک اہم فیصلے میں ہفتے کو قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے دو بااثر قبائلی سرداروں عیدا خان اور داور خان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں گرفتار ان دو افراد کو ان کے قبیلے نے تقریبًا دو برس قبل حکومت کے حوالے کیا تھا۔ دونوں کا تعلق جنوبی وزیرستان کے شکئی علاقے سے ہے۔

صوبائی دارلحکومت پشاور میں ہفتے کے روز جاری ایک سرکاری بیان میں حکومت کا کہنا تھا کہ یہ رہائی شکئی امن کمیٹی اور جنوبی وزیرستان کے ایک جرگے کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔

یہ رہائی بھی کسی معاہدے اور شرائط کے بغیر ممکن نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں قبائلی سرداروں نے پولیٹکل انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مستقبل میں شدت پسندوں کی نہ تو مدد کریں گے اور نہ انہیں پناہ مہیا کریں گے، وہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی کی مخالفت نہیں کریں گے، سرکاری افسر یا تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی بھی مخالفت نہیں کریں گے۔

ان دو بااثر شخصیات کو ان کے قومی جرگے نے ایک معاہدے کے تحت جولائی دو ہزار چار میں حکومت کے حوالے کیا تھا۔ اس وقت اس بات پر اتفاق تھا کہ انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں انہیں حکومت کے حوالے کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی فرید اللہ کے قتل سے یہ معاملہ طول پکڑ گیا۔

عیدا خان اور داور خان پر بھی نیک محمد اور حاجی جاوید کی طرح اپنے علاقے میں القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ دونوں کافی عرصے تک اپنے قبیلے سے بھی بغاوت پر اڑے رہے اور اپنے آپ کو ان کے حوالے نہیں کیا جس پر ان کے قبیلے نے ان کے مکانات بھی مسمار کر دیئے تھے۔

شکئی کے علاقے میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور راکٹ سے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عام خیال ہے کہ اس کی وجہ عیدا خان اور داور کی رہائی کے لیئے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔

سرکاری بیان میں حکومت نے اس توقع ظاہر کی ہے کہ اس اہم قدم سے علاقے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں
پشاور میں جج کی خودکشی
04 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد