پاکستان: 50 کے قریب قبائلی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں سے پچاس کے قریب قبائلیوں کو رہا کر دیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ قدم مقامی طالبان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں خیرسگالی کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ میران شاہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ان قبائلیوں کے خلاف کوئی ٹھوس الزامات نہیں تھے لہذا انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ رہائی پانے والے مقامی تاجر یا ڈرائیور تھے جنہیں اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت کسی بھی قبیلے کے رکن کے انفرادی عمل کو پورے قبیلے کا عمل تصور کیا جاتا ہے۔
مقامی طالبان نے گزشتہ دنوں ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کے سامنے جو شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک تمام قبائلی قیدیوں کی رہائی بھی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس قیدیوں کی رہائی کے اس اقدام سے حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان تناؤ میں مزید کمی آئے گی۔ | اسی بارے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک26 June, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان سے اچھی خبر26 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: بھتہ خور سمیت چھ ہلاک26 June, 2006 | پاکستان عارضی جنگ بندی کا اعلان25 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی زخمی15 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی حملےمیں18 ہلاک10 June, 2006 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، تین اہلکار ہلاک04 June, 2006 | پاکستان وزیرستان کے لیئے نئی’فورس‘03 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||