BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 05:43 GMT 10:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان کے لیئے نئی’فورس‘

وزیرستان
وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب ہے
حکومتِ پاکستان نے قبائلی علاقے وزیرستان میں امنِ عامہ کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیئے ایک نئی ’فورس‘ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیئے بھرتی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس نئی فورس کو ’لیویز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ قبائلی علاقوں میں انتظامی افسر یعنی پولیٹکل ایجنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیئے قائم کی جا رہی ہے۔ یہ فورس اب تک سات میں سے صرف تین قبائلی ایجنسیوں، باجوڑ، کّرم اور اورکزئی میں فعال ہے۔


ان چار ایجنسیوں میں جہاں لیویز فورس نہیں پولیٹکل ایجنٹ کے پاس سرکاری احکامات کی تکمیل کے لیئے صرف خاصہ دار موجود ہیں۔ تاہم خاصہ دار کے اہلکار مقامی قبائل سے ’نکت‘ کی روایت کے تحت لیئے جاتے ہیں۔ ہر قبیلے کو جدی پشتی بنیاد پر اس میں نمائندگی حاصل ہوتی ہے لہٰذا یہ فورس ان قبائل کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہے۔

نئی لیویز فورس میں بھرتی صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور منتخب کیئے گئے افراد کو نو ماہ کی تربیت باجوڑ میں قائم ایک مرکز میں دی جائے گی۔

قبائلی علاقوں کے سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں بتایا کہ اس نئے منصوبے کی بنیادی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور وفاقی حکومت جلد اس فورس کے لیئے بھرتی کا اعلان کرے گی۔

پاک فوج اس علاقے میں پہلے ہی آپریشن میں مصروف ہے

ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ حکومت کو اُمید ہے اس اقدام سے دو بڑے فائدے ہوں گے۔ ایک تو مقامی انتظامیہ کو فورس میسر آ سکے گی تو دوسری جانب اس سے علاقے میں بے روزگاری پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔

حکام کا خیال ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری بھی ہے اور اکثر نوجوان بےروزگاری سے تنگ آ کر شدت پسندوں سے مل رہے ہیں۔

وزیرستان کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر نئی فورس کی تعیناتی کے پہلے مرحلے میں آغاز اسی علاقے سے کیا جائے گا اور ہر ایجنسی سے تقریباً ایک ہزار افراد بھرتی کیئے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس فورس کے قیام سے متعلق امریکی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا ہے اور انہیں یہ تجویز پسند آئی ہے۔ امریکی حکام نے اس فورس کی تیاری میں تکنیکی مدد کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ منصوبہ بھی اس حکومتی پالیسی کا آئینہ دار دکھائی دیتا ہے جس کے تحت اس نے پولیٹکل ایجنٹ کے عہدے کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز اخباری اطلاعات کے مطابق فوجی افسروں کو اس عہدے پر تعینات کرنے کی بھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد