مشرف کا دورہِ کابل: کیا کھویا کیا پایا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کا حالیہ دورہ کابل ماضی قریب کے دوروں سے کسی صورت مختلف نہیں تھا۔ پاکستانی صدر کا زیادہ تر وقت اپنی صفایاں ہی پیش کرتے رہے۔ اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی فضا ہے۔ پاکستان کو افغانستان بلکہ پوری دنیا میں آج بھی طالبان کا معمار اور حامی تصور کیا جاتا ہے اور افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا الزام بھی پاکستان پر ڈالا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ دورے کافی مشکل سمجھے جاتے ہیں جہاں فریقین میں اعتماد کی کمی ہو۔ صدر مشرف نے افغان حکومت اور عوام کو جو بھی زبانی تسلیاں اور یقین دہانیاں کرائی ہیں وہ اپنی جگہ لیکن اصل اعتماد سازی طالبان کی سرحد پار مداخلت کے خاتمے سے ہی ہوسکتی ہے۔ صدر مشرف نے کابل کا دورہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب وہاں کے لوگ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے اعلان کی توقع کر رہے تھے لیکن انہیں ان طالبان سے امن معاہدہ کی خبر سنائی جا رہی تھی۔ پاکستان جن عناصر کے ساتھ امن کی باتیں کر رہا ہے افغانوں کو یقین ہے کہ وہی لوگ ان کے ملک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اب تک کی سب سے شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ افغانوں کی ایک بڑی تعداد میران شاہ کے معاہدے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے شدت پسندوں کو سرحد پار کارروائیوں کی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔ کچھ کو خوف ہے کہ اس معاہدے سے شدت پسند اپنے آپ کو مزید مضبوط محسوس کریں گے۔ ایسی بداعتمادی کے ماحول میں صدر مشرف کا کابل میں یہ کہنا کہ شدت پسند پاکستان سے سرحد پار لڑنے کے لیئے جا رہے ہیں اپنی کمزوریوں کا بلامبالغہ اعتراف ہے۔ اس سے بداعتمادی تو کم کرنے میں یقینا مدد نہیں ملے گی لیکن صورتحال کو مزید مبہم ضرور کر سکتی ہے۔ پاکستان پر طالبان کی وجہ سے دباؤ صرف افغانستان کا ہی نہیں امریکہ کا بھی ہے۔ اس کے جارحانہ بیانات میں تو آج کل کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن وہ بھی کوئی زیادہ خوش نہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ چند دنوں میں امریکہ کا رخ کرنے والے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد تو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت ہے لیکن اس سے قبل اچانک کابل کے دورے سے وہ شاید دنیا کی نبض محسوس کرنا چاہتے تھے خصوصاً وزیرستان معاہدے کے بعد۔ ایک سیانے کے الفاظ میں وہ ’نیٹ پریکٹس’ کے لیئے کابل گئے۔ نیو یارک میں بھی انہیں اسی قسم کے سوالات کا سامنا رہے گا۔ پاکستان طالبان کے مسئلے پر بین القوامی سطح پر ذرائع ابلاغ میں اپنی شبیہ درست کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنا موقف موثر انداز میں دنیا کے سامنے نہیں رکھ پایا ہے۔ اس کا یہ کہنا یقینا وزن رکھتا ہے کہ اتنی لمبی اور مشکل سرحد کو محض اسی ہزار فوجیوں سے بند کرنا ناممکن ہے اور یہ کہ سرحد پار حملوں کو روکنے کی اتنی ہی ذمہ داری امریکی اور افغان فوجیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے جتنی کہ پاکستان کی۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ غیرملکی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی تک مزاحمت کا خاتمہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان کا جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ یہ صرف اس ملک اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیئے ضروری ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر زیادہ زور دیں گے۔ اگر پاکستان سرحد کی اپنی جانب فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات کر سکتا ہے تو امریکہ اور افغان حکام اپنی جانب جدید آلات کی مدد سے نظر رکھ سکتے ہیں۔ خفیہ معلومات کا اضافہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری صورتحال میں کسی کے سرحد پار مداخلت سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہے تو پھر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ صدر مشرف کے تازہ دورے کے بعد بھی بداعتمادی کی فضا میں کوئی خاطر خواہ کمی آنے کا امکان نہیں۔ اس بارے میں امریکہ اور افغان حکام معاہدہ وزیرستان پر بڑی گہری نظر رکھیں گے۔ اس معاہدے کی کوئی بھی خلاف ورزی ان کو ایک مرتبہ پھر پاکستان مخالف بیانات پر اُکسا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر06 September, 2006 | پاکستان الزام لگانا بند کر دیں: مشرف07 September, 2006 | پاکستان طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم05 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||