طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف امور پر بات چیت کے لیئے بدھ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں۔ نیٹو کے سیکیرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر بھی ان دنوں کابل کے دورے پر ہیں۔ اس موقع پر ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے اور یہ یقینی طور کر لی جائے گی۔ صدر مشرف کی کابل روانگی سے ایک دن قبل ہی پاکستان نےافغان سرحد پر طالبان حامیوں سے امن معاہد کیا ہے۔ دو روزہ سرکاری دورہ کے دوران صدر مشرف افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے اور دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں خطے میں شدت پسندوں کی جانب سے تشدد کی کارروائیاں ختم کرنے کی بات کی جائے گی۔ پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔ افغانستان نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ سرحد پر دہشت گردوں کی کاروائیاں روکنے کے لیئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا رہا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ افغان صدر کے دفتر کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر حامد کرزئی صدر مشرف کے ساتھ خطے میں دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر دوستانہ بات چیت کریں گے۔ پاکستان کی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان میں تجارتی اور تعمیر نو کے امور کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر بات کی جائے گی۔ نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ منگل کو جنوبی افغانستان کے صوبے قندھار میں نیٹو فوج کی جانب سے کیئے جانے والے ایک آپریشن میں پچاس کے قریب طالبان مارے گئے ہیں۔ پیر کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ معاہدے کے تحت تمام غیرملکی شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنا ہوگا جبکہ طالبان اور القاعدہ عناصر پر سرحد پار افغانستان جانے پر پابندی ہوگی۔ یہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ طے پانے والا پہلا معاہدہ ہے۔ اس سے قبل حکومت اس قسم کے امن معاہدے جنوبی وزیرستان میں بھی قبائلی جنگجوؤں کے ساتھ کر چکی ہے۔ نیٹو فورسز کو جنوبی افغانستان میں کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ درین اثناء افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں پنجوائی ضلع میں نیٹو افواج نے پچاس طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ نیٹو فورسز نے ایک ماہ پیش تر امریکی فوجیوں سے جنوبی افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان گرینڈ جرگہ، حکومت کی ہوش مندی06 September, 2006 | پاکستان حکومت اور طالبان میں تین معاہدے05 September, 2006 | پاکستان طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم05 September, 2006 | پاکستان کارروائی جاری رہیگی: آفتاب05 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||