کارروائی جاری رہیگی: آفتاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ بگٹی اور مری علاقے میں پچاس کے قریب فراری کیمپ قائم تھے جس میں سے تیس کے قریب کیمپ ختم کردیئے گئے ہیں۔ منگل کو نیوز بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ جب تک باقی کیمپ ختم نہیں ہوتے اس وقت تک شرپسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق نواب خیربخش مری کے بیٹے بالاچ خان اور نواب بگٹی کے پوتے یہ کیمپ چلا رہے تھے۔ انہوں نے بریفنگ میں اکبر بگٹی کی ہلاکت اور اس کے پس منظر کے متعلق تفصیلات بتائیں اور کہا کہ حکومت انہیں قتل نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی انہیں نشانہ بنایا۔ وزیر نے کہا کہ حکومت نے کئی بار مصالحت کی کوشش کی لیکن پھر بھی نواب بگٹی اور ان کے حامی ریاستی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے اور معصوم لوگوں کو مارتے رہے۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی بریفنگ میں کوئی بڑی یا نئی بات تو سامنے نہیں آئی لیکن ان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ حکومت نے اکبر بگٹی کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا۔ ان سے پہلے گزشتہ دو روز میں وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی اور مملکتی وزیر اطلاعات طارق عظیم بھی اس بارے میں بریفنگ دے چکے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی ایک پالیسی کے تحت روزانہ کوئی وزیر اس بارے میں بیان دیں گے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری31 August, 2006 | پاکستان سلامتی کا خطرہ برقرار: اسلم بیگ29 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||