طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقامی طالبان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ادھر گورنر سرحد نے بھی اسے قبائلی تاریخ کا بےمثال اور لاثانی واقعہ قرار دیا ہے۔ مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں اس معاہدے کو جرگے کی کوششوں کا ثمر قرار دیا۔ غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کی شرط کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آج تک علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی ثابت نہیں کی تو جو موجود نہیں اسے نکالنے کا مطالبہ بےمقصد ہے۔ سرحد پار حملے نہ کرنے کی بندش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسئلہ افغانستان میں لڑنے کا نہیں بلکہ حکومت انہیں اپنے علاقے میں پرامن رہنے نہیں دے رہی تھی۔ جنوبی وزیرستان کے حالات پر ایسے امن معاہدوں کے اثرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں جنگجوؤں کی قیادت منقسم تھی جبکہ شمالی وزیرستان میں ایسا نہیں۔ ’یہاں اگر ایک مرتبہ ان کے امیر نے جنگ بندی کا حکم دیا تو جنگ بند ہوگئی۔ وہاں ایسا نہیں تھا‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے لیئے انہوں نے حکومت سے کوئی رقم نہیں لی۔ ’حکومت صرف ان کی املاک کو پہنچنے والا نقصان پورا کرے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کے اعلان کے بعد جرگے کے اراکین نے طالبان قیادت سے ایک مدرسے میں ملاقات کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم جواب میں طالبان قیادت نے جرگہ اراکین سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں جا کر لوگوں پر یہ واضح کریں کہ طالبان نے یہ جنگ اپنے دین اور غیرت کے لیئے کی اور اس میں کسی دوسرے ملک کا ہاتھ نہیں تھا۔ ’ہم نے انڈیا یا کسی اور کی ٹھیکیداری نہیں لی ہوئی ہے۔ ہمیں اپنی حکومت پر پورا اعتماد ہے‘۔ تاہم انہوں نے حالات پرامن بنانے میں اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس معاہدے سے عام شہریوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ یہ پائیدار امن کا ضامن ہوگا۔ گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی نے پشاور میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل مسئلہ کو قبائلی رسم و رواج کے مطابق چند ہفتوں میں حل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے علاقے میں ترقی کی راہیں کھلیں گی جس کے لیئے بجٹ میں پہلے ہی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز میں سے شورش زدہ علاقوں کو زیادہ حصہ دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: دو فوجی ہلاک27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: مزید قیدی رہا 24 July, 2006 | پاکستان سات سکیورٹی اہلکار ہلاک26 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||