الزام لگانا بند کر دیں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ افغانستان شدت پسندوں کے ساتھ مسئلے کا الزام پاکستان پر لگانا بند کر دے۔ افغانستان میں اپنے دورے کے دوسرے روز پرویز مشرف نے تسلیم کیا کہ القاعدہ اور طالبان کے جنگجو پاکستان میں بھی کارروائی کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پاکستان حکومت یا سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں پوری طرح متفق ہوں کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں موجود ہیں۔ یقیناً وہ پاکستان سے سرحد عبور کر کے آپ کے ملک میں بم دھماکے اور دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔ لیکن یہ سپانسرڈ (پاکستان کی حمایت سے) نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا صرف القاعدہ یا طالبان کے جنگجوؤں کی عسکری کارروائیوں کو روکنا ہے ضروری نہیں ہے بلکہ پاکستان معاشرے کی ’طالبانائزیشن‘ کو روکنا بھی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان الزام لگاتا رہا ہے کہ شدت پسند سرحد پار پاکستان سے تربیت حاصل کر کے آ رہے ہیں اور اسلام آباد ان کے خلاف کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔ | اسی بارے میں طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر06 September, 2006 | پاکستان پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم05 September, 2006 | پاکستان میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان ’افغانستان میں جہاد جاری رہے گا‘16 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں ستائیس ’طالبان‘ گرفتار 15 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||