BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الزام لگانا بند کر دیں: مشرف
صدر مشرف اور حامد کرزائی
’طالبانائزیشن پاکستانی معاشرے پر اثر انداز ہو رہی ہے‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ افغانستان شدت پسندوں کے ساتھ مسئلے کا الزام پاکستان پر لگانا بند کر دے۔

افغانستان میں اپنے دورے کے دوسرے روز پرویز مشرف نے تسلیم کیا کہ القاعدہ اور طالبان کے جنگجو پاکستان میں بھی کارروائی کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پاکستان حکومت یا سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’میں پوری طرح متفق ہوں کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں موجود ہیں۔ یقیناً وہ پاکستان سے سرحد عبور کر کے آپ کے ملک میں بم دھماکے اور دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔ لیکن یہ سپانسرڈ (پاکستان کی حمایت سے) نہیں ہے‘۔

شمالی وزیرستان سے طالبان اور القاعدہ کے اکثر اراکین افغانستان جاتے ہیں

انہوں نے کہا صرف القاعدہ یا طالبان کے جنگجوؤں کی عسکری کارروائیوں کو روکنا ہے ضروری نہیں ہے بلکہ پاکستان معاشرے کی ’طالبانائزیشن‘ کو روکنا بھی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان الزام لگاتا رہا ہے کہ شدت پسند سرحد پار پاکستان سے تربیت حاصل کر کے آ رہے ہیں اور اسلام آباد ان کے خلاف کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد