BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان میں جہاد جاری رہے گا‘
طالبان رہمنا
حاجی عمر نے کہا کہ وہ کہیں بھی جا کر جہاد کر سکتے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے امیر حاجی عمر نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے غیر ملکی فوجیں نکل نہیں جاتیں وہ ان کے خلاف ’جہاد‘ جاری رکھیں گے۔

بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان افغانستان کے طالبان اور مجاہدین کے ساتھ مل کر جہاد کر رہے ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کا اتحاد امریکہ، برطانیہ اور دوسرے بڑے ملکوں سے ہے اس طرح ان کا اتحاد افغانستان کے قبائل، مجاہدین اور طالبان سے ہے۔’ جو ہمارے ساتھ لڑتا ہے ہم بھی ان کے ساتھ لڑتے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان تو چاہتا ہے کوئی طالبان پاکستان سے جاکر افغانستان میں نہ لڑے تو انہوں نے کہا کہ ’ لیکن ہم تو پاکستان پر نہیں چلتے۔ ہم تو اسلام اور سریعت پر چلتے ہیں۔ ہم کسی ملک میں بھی جا کر لڑسکتے ہیں۔‘

پاکستان حکومت کے ساتھ معاہدے پر انہوں نے کہا کہ ان کا معاہدہ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف نہیں لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تو غیر ملکی فوجیں آئی ہیں اور وہ ان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے جنگجؤ موجود ہیں لیکن ان میں زیادہ تعداد پشتونوں کی ہے جن کا کہنا ہے کہ افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کررکھا ہے اور وہ وہاں ظلم کر رہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ ان کے پاس روس کے دور کا اسلحہ موجود ہے۔ وزیرستان میں قائم بھرتی کے مراکز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف جہاد کے دوران بھی وہ بھرتی کرتے تھے پھر طالبان کے دور میں بھی وہ بھرتی کرتے رہے اور آج بھی بھرتی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی بہت ضروری ہے۔

افغانستان کی سرحد پر تعینات پاکستان فوج کے بارے میں انہوں نے کہا وہ انہیں افغانستان جانے سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چھپ کر افغانستان جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی افغانستان میں بھی زمین ہے اور انہیں افغانستان جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اسی بارے میں
مولانا صادق نور کون ہے؟
14 March, 2006 | پاکستان
وزیرستان کا سچ معلوم نہیں
19 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد