وزیرستان: جاسوسی کے الزام میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ایک پینسٹھ سالہ شخص کو جاسوسی کے الزام میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ادھر پشاور میں گورنر سرحد نے آج پینتالیس رکنی جرگہ اراکین کو جس نے گزشتہ دنوں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ کرایا تھا انعام اور اسناد سے نوازا ہے۔ گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی کے ساتھ ایک ملاقات میں جرگہ اراکین کو فی کس ایک لاکھ روپے اور توصیفی سند دی گئی۔ نیم فوجی ملیشیا کے اہلکاروں کو پینسٹھ سالہ رحیم جان ولد امیر جان کی لاش صدر مقام میران شاہ کے قریب ایک تبلیغی مرکز کے پاس سے ملی۔ لاش کے ساتھ اردو زبان میں لکھا ایک خط بھی ملا جس میں کہا گیا تھا کہ میر علی تحصیل کے قبیلے ایدرخیل سے تعلق رکھنے والے اس سفید ریش شخص نے تحقیقات کے دوران امریکہ کے لیئے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔ پیغام میں مزید کہا گیا تھا کہ اس اعتراف سے متعلق سی ڈی جلد جاری کی جائے گی۔ خط میں دھمکی دی گئی تھی کہ جاسوسی کرنے والوں کا حشر یہی ہوگا۔ وزیرستان میں گزشتہ چند برسوں سے اس قسم کی جاسوسی کے الزامات کے تحت ہلاکتوں کا ایک طویل سلسلہ چل رہا ہے۔ یہ قتل حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے چند روز بعد ہوا ہے جس سے مقامی قبائل میں ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گورنر سرحد نے جمعے کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں امن معاہدے کی کامیابی کی صورت میں گرینڈ جرگے کو جنوبی وزیرستان میں بھی کوئی کردار دیا جاسکتا ہے۔ گورنر نے تاہم جرگہ اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس امن معاہدے کی اصل کامیابی اس پر مکمل عمل درآمد میں ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان ’ دو امریکی جاسوس قتل‘19 April, 2006 | پاکستان باجوڑ میں سر کٹی لاش برآمد11 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||