BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 21:53 GMT 02:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان: 18 لاشوں کی آمد
وزیرستان میں کئی مقامات پر ایسی قبریں ہیں جن کا علاقے میں کوئی نہیں ہے
پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان میں افغانستان سے مزید اٹھارہ لاشیں لائی گئی ہیں جن میں سے پندرہ لاشیں ایسے نوجوان لڑکوں کی ہیں اور جن کی عمریں پندرہ سے پچیس سال تک بتائی جاتی ہیں۔

شمالی وزیرستان تک یہ لاشیں گزشتہ رات انتہائی دشوارگزار راستوں سے لائی گئیں اور شناخت کے بعد شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں حیدرخیل، شوہ، میامی کابل خیل اور میراں شاہ میں سپرد خاک کی گئیں۔

بتایا جاتا ہے کہ لاشوں کی شناحت بھی بڑی مشکل سے ہوئی کیونکہ لاشیں بری طرح جھلسی ہوئی تھیں۔

میراں شاہ کے ایک دوکاندارنے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اٹھارہ لاشوں میں سے پندرہ لاشیں ایسے نوعمر لڑکوں کے تھیں جو حال ہی میں طالبان تحریک میں شامل ہوئے تھے اور پہلی دفعہ جہاد کے نام پر افغانستان گئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ تقریباً دس روز پہلے شمالی وزیرستان کے مقامی کمانڈر سیف اللہ کے نگرانی میں کوئی سو کے قریب جنگجو میراں شاہ سے گئے تھے اور افغانستان کے صوبہ پکتیہ کے ضلع برمل علاقہ رخہ میں اتحادیوں کے ایک قافلے پر حملہ آور ہوئے تھے۔

عید کی خوشیاں منسوخ
 میراں شاہ میں مقامی علماء نے اعلان کیا ہے کہ عید کے موقع پر کسی قسم خوشی نہیں منائی جائےگی اور تماشوں پر بھی پابندی ہوگی اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے سزادی جائی گئی

اس حملے میں اتحادیوں کا کافی جانی و مالی نقصان بتایا جاتا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ حملے کے دوران صرف چار جنگجو زخمی ہوئے تھے لیکن بعد میں جب جنگجو واپس لوٹ رہے تھے تو امریکی طیاروں نے اچانک بمباری شروع کردی جس کے نتیجہ میں چالیس جنگجو ہلاک ہوگئے اور کئی زخمی بھی ہوئے۔

میراں شاہ لائی جانے والے اٹھارہ لاشیں انہی ہلاک ہونے والوں میں شامل جنگجوؤں کی بتائی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ زخمی بھی لائے گئے ہیں جن کا میراں شاہ اور وانا کے مختلف علاقوں میں علاج کیا جارہا ہے۔

اس واقع کے بعد میراں شاہ میں مقامی علماء نے اعلان کیا ہے کہ عیدکے موقع پر کسی قسم خوشی نہیں منائی جائےگی اور میراں شاہ میں انڈوں کے کھیل اور دوسرے تماشوں پر بھی پابندی ہوگی اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے سزادی جائی گئی۔

اسی بارے میں
وزیرستان ایک تجربہ گاہ
10 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد