وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے حکم پر دوہرے قتل میں مبینہ طور پرملوث ایک مقامی قبائلی کو سرعام فائرنگ کر کے ہلاک کردیاہے۔ جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے ذریعے کےمطابق پیر کے روز تین بجے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا میں بحتہ خان المعروف سنگین شمن خیل محسود کو قتل کر دیا گیا۔ ارسلاخان کے شکا یت پر کارروائی کرتے ہوئے علاقائی کمانڈرشمیم کے سربراہی میں ان کے ساتھیوں نے سنگیں شمن خیل کو گرفتار کر لیا گرفتاری کے بعد ان سے حفیہ تحقیق کی گئی اور سنگین خان کو دوہرے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں طوطی خان کے والد ارسلا خان کوطالبان نے کلاشنکوف تھما دیا جس نے ہاتھ پاؤں سے باندھا ہوئے سنگین خان پر سرعام فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ یاد رہے کہ اس قبل اسی سال جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں طالبان شوری کے فیصلہ پر دو اشخاص کو سرعام قتل کیا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان ’ دو امریکی جاسوس قتل‘19 April, 2006 | پاکستان باجوڑ میں سر کٹی لاش برآمد11 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: گرینڈ جرگے پر پابندی27 July, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||