BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 02:58 GMT 07:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘
شمالی وزیرستان
مقامی قبائلیوں کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کی فوج وزیرستان سے نکل چکی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے حکم پر دوہرے قتل میں مبینہ طور پرملوث ایک مقامی قبائلی کو سرعام فائرنگ کر کے ہلاک کردیاہے۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے ذریعے کےمطابق پیر کے روز تین بجے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا میں بحتہ خان المعروف سنگین شمن خیل محسود کو قتل کر دیا گیا۔
بحتہ خان المعروف سنگین شمن خیل محسود نے گزشتہ سال محسود قبیلے کے طوطی خان اوران کی بیوی کو ذاتی تنازعہ میں ہلاک کردیا تھا۔ جسں پرطوطی کے والد ارسلا خان نے چندروز پہلے سنگین کے خلاف طالبان شوریٰ کو شکایت کی۔

ارسلاخان کے شکا یت پر کارروائی کرتے ہوئے علاقائی کمانڈرشمیم کے سربراہی میں ان کے ساتھیوں نے سنگیں شمن خیل کو گرفتار کر لیا

گرفتاری کے بعد ان سے حفیہ تحقیق کی گئی اور سنگین خان کو دوہرے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں طوطی خان کے والد ارسلا خان کوطالبان نے کلاشنکوف تھما دیا جس نے ہاتھ پاؤں سے باندھا ہوئے سنگین خان پر سرعام فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

یاد رہے کہ اس قبل اسی سال جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں طالبان شوری کے فیصلہ پر دو اشخاص کو سرعام قتل کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں
’ دو امریکی جاسوس قتل‘
19 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد