حکومت،طالبان امن معاہدے کا ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت نے ان دس گرفتار افراد کا فیصلہ جرگے کے حوالے کر دیا ہے جن کو گزشتہ دنوں افغانستان میں اتحادی افواج پر مبینہ حملے کے بعد پاکستان میں داخل ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ صدر مقام میران شاہ میں ذرائع نے بتایا کہ یہ گرینڈ جرگہ وہی ہے جس نے گزشتہ دنوں حکومت اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان امن معاہدہ طے کرایا تھا۔ معاہدے کے بعد جرگے کے دس اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی ذمہ داری بعد میں پیدا ہونے والے مسائل یا معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کا تعین تھا۔ اب ان دس افراد کا فیصلہ بھی یہی جرگہ کمیٹی کرے گی۔ اس جرگے کے ایک رکن مولانا محمد عالم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو جمعہ کو بتایا کہ دس رکنی کمیٹی اب اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ لوگ سرحد پار اتحادی افواج پر حملے میں ملوث تھے یا نہیں۔ یہ واقعہ شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے لوڑا منڈی میں گزشتہ منگل کو پیش آیا تھا۔ افغانستان کے سرحدی علاقے پپلی میں مقامی شدت پسندوں نے اتحادی افواج پر حملہ کیا جس کے بعد اطلاعات کے مطابق ان میں کچھ پاکستان کی سرحد کی طرف آگئے۔ ان افراد کا اتحادی ہیلی کاپٹروں نے بھی تعاقب کیا اور بعض اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستانی علاقے میں بھی داخل ہوئے۔ تاہم پاکستانی حکام ایسی کسی دراندازی سے انکار کرتے ہیں۔
تاہم اتحادی افواج نے ان مبینہ حملہ آورں کے خلاف کارروائی کی اطلاع پاکستانی حکام کو دی۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور مقامی قبائلیوں سے ان مبینہ حملہ آورں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ مولانا محمد عالم نے بتایا کہ اس سلسلے میں فوجی حکام نے جرگہ اراکین سے مدد طلب کی جنہیں ہیلی کاپٹر میں سرحد لیجایا گیا۔ ان عمائدین کی یقین دہانی پر مقامی قبائلیوں نے دس افراد حکومت کے حوالے کر دیئے۔ محمد عالم کا کہنا تھا کہ ’اب ان افراد کا فیصلہ قبائلی جرگے کی رو سے آئندہ آٹھ یا دس روز میں کیا جائے گا‘۔ تـجزیہ نگاروں کے مطابق یہ پانچ ستمبر کو حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا پہلا ٹیسٹ ہے۔ مقامی شدت پسندوں نے معاہدے کی رو سے سرحد پار کارروائیاں نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ مولانا محمد عالم کے مطابق جن کا تعلق جعمیت علما اسلام سے ہے زیر حراست افراد کا کہنا تھا کہ جب افغانستان کے اندر گولیاں چلیں تو وہ ان سے بچنے کی خاطر اس طرف آگئے۔ ’قدرتی بات ہے جب کہیں لڑائی ہو رہی ہو تو انسان امن کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے‘۔ معاہدے کی ایک اور شق یعنی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز میں مارے جانے والے جو مبینہ جاسوسوں کے بارے میں ابھی واضع نہیں کہ انہیں ذاتی دشمنی یا کسی اور وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ ’ہم اس معاملہ پر بھی ضرور غور کریں گے‘۔ |
اسی بارے میں حکومت اور طالبان میں تین معاہدے05 September, 2006 | پاکستان طالبان: امن معاہدے کا خیر مقدم05 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: دس قیدی رہا26 August, 2006 | پاکستان وزیرستان: جنگ بندی میں توسیع25 August, 2006 | پاکستان وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل20 July, 2006 | پاکستان حکام کےقبائلیوں سے رابطے بحال27 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||