BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن معاہدے میں طالبان فریق نہیں‘

’یہ معاہدہ شمالی وزیرستان کے قبائل سے کیا گیا ہے‘
صوبہ سرحد کےگورنر کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی یہ خبریں غلط ہیں کہ شمالی وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے میں طالبان کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے صحافیوں کو بے حد اصرار کے باوجود معاہدے کی نقل فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل پشاور میں بھی پریس کانفرنس کےدوران گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے معاہدے کی کاپی دینے سے انکار کیا تھا۔

تاہم اسلام آباد میں ایک صحافی کو سٹیج پر بلوا کر اس معاہدے کی نقل پڑھوائی گئی اور اس کے مطابق یہ معاہدہ بطور نمائندہ گورنر صوبہ سرحد، پولیٹیکل ایجنٹ شمالی وزیرستان اور قبائلی عمائدینِ شمالی وزیرستان و مقامی مجاہدین و طلبا و علماء اقوامِ اتمانزئی کےد رمیان طے پایا ہے۔

اس سوال پر کہ مقامی مجاہدین سے حکومت کی مراد کیا ہے، گورنر سرحد نے کہا کہ یہ معاہدہ شمالی وزیرستان کے قبائل سے کیا گیا ہے اور اس میں تمام لوگ شامل ہیں۔

پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کے امن معاہدے کے تحت صرف ان غیر ملکیوں کو علاقے میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت ہوگی جو وہاں پہلے سے رہائش پذیر ہیں اور اب پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت دیں گے۔ ان کے علاوہ کسی بھی غیر ملکی کو وزیرستان میں رہائش اختیار کرنے یا اس بنیاد پر معافی طلب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد ایک عملدرآمد کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس کی شقوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور یہی کمیٹی غیر ملکیوں کے رویے پر بھی نظر رکھے گی۔

 ان علاقوں میں ترقیاتی اخراجات کے لیئے مختص رقم کو بڑھا کر چھ اعشاریہ دو ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے کی دیرپا ترقی کے لیئے ایک نو سالہ ترقیاتی پروگرام بھی شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس پر ایک سو بیس ارب روپے خرچ ہوں گے۔
گورنر سرحد

گورنر سرحد کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس قبائلی علاقوں میں موجود غیر ملکیوں کی نقل و حرکت پر رکھنے کے دیگر ذرائع بھی ہیں جن میں الیکٹرونک نگرانی کا نظام بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سے قبل وزیرستان میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ سو سے ایک ہزار غیر ملکی موجود تھے جن میں سے قریباً سات سو فوجی آپریشن کے دوران ہلاک یا گرفتار ہو چکے ہیں۔

اس سوال پر کہ شکئی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد جنوبی وزیرستان میں مقامی آبادی میں طالبان کے اثر ونفوذ میں اضافہ ہوا تھا اس لیئے کیا یہ امن معاہدہ شمالی وزیرستان میں بھی ویسے ہی حالات پیدا نہیں کرے گا، گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس امن معاہدے میں گزشتہ امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ شق شامل کی گئی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی متوازی حکومت قائم نہیں کی جائے گی اور مسائل کے حل کے لیئے پولیٹیکل ایجنٹ ایف سی آر کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری ترقیاتی پروگرام کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں ترقیاتی اخراجات کے لیئے مختص رقم کو بڑھا کر چھ اعشاریہ دو ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے کی دیرپا ترقی کے لیئے ایک نو سالہ ترقیاتی پروگرام بھی شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس پر ایک سو بیس ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس پروگرام کے تحت قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جائے گا اور یہاں تمام بنیادی سہولیات کی مکمل فراہمی کو یقینی بنایا جائےگا۔

اسی بارے میں
سات سکیورٹی اہلکار ہلاک
26 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد