BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 December, 2006, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: گمشدگیوں پرعدالتی نوٹس

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ طارق پرویز
پچھلے دنوں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اسلام آباد میں مظاہرہ کیا (فائل فوٹو)
پشاور ہائی کورٹ نے بعض شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے حکومتی سکیورٹی اداروں کی ’لاعلمی‘ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس طارق پرویز افغان مصنف اور صحافی عبد الرحیم مسلم دوست کے بھائی کی جانب سے دائر کردہ حبس بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔

عبدالرحیم مسلم دوست کچھ عرصہ قبل گونتاناموبے سے رہا ہوکر آئے تھے تاہم اکتوبر میں پاکستانی حساس اداروں نے مبینہ طو پر ان کے گھر واقع اکیڈیمی ٹاؤن میں ایک مسجد سے ان کو حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا اور وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کیوبا کے بدنام زمانہ جیل سے رہائی کے بعد ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حساس اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کل کو چیف جسٹس کو بھی غائب کیا جاسکتا ہے تو اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی
چیف جسٹس

چیف جسٹس نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ جب ملک کی سکیورٹی ادراروں کو ہی یہ معلوم نہیں کہ گمشدہ افراد کہاں اور کس کے پاس ہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے عدالت میں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل اور سی آئی ڈی پولیس کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’ کل کو چیف جسٹس کو بھی غائب کیا جاسکتا ہے تو اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی‘۔

اسی بارے میں
دس لاپتہ افراد کی بازیابی
01 December, 2006 | پاکستان
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد