پشاور: گمشدگیوں پرعدالتی نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور ہائی کورٹ نے بعض شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے حکومتی سکیورٹی اداروں کی ’لاعلمی‘ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس طارق پرویز افغان مصنف اور صحافی عبد الرحیم مسلم دوست کے بھائی کی جانب سے دائر کردہ حبس بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔ عبدالرحیم مسلم دوست کچھ عرصہ قبل گونتاناموبے سے رہا ہوکر آئے تھے تاہم اکتوبر میں پاکستانی حساس اداروں نے مبینہ طو پر ان کے گھر واقع اکیڈیمی ٹاؤن میں ایک مسجد سے ان کو حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا اور وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کیوبا کے بدنام زمانہ جیل سے رہائی کے بعد ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حساس اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ جب ملک کی سکیورٹی ادراروں کو ہی یہ معلوم نہیں کہ گمشدہ افراد کہاں اور کس کے پاس ہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے عدالت میں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل اور سی آئی ڈی پولیس کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’ کل کو چیف جسٹس کو بھی غائب کیا جاسکتا ہے تو اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی‘۔ | اسی بارے میں پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان مینگل کے گرفتار ملازمین لاپتہ06 April, 2006 | پاکستان دو مزید ’لاپتہ‘ قوم پرست رہنما ظاہر04 November, 2006 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان دس لاپتہ افراد کی بازیابی 01 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ09 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||