BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 December, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ

چھ لاپتہ افراد کے اہل خانہ مظاہرے میں شریک تھے
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے انسانی حقوق کے کمیشن کے رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں کے ہمراہ پارلیمان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں عاصمہ جہانگیر، اقبال حیدر، آئی اے رحمٰن اور افراسیاب خٹک سمیت انسانی حقوق کمیشن کے کارکن، لاپتہ افراد کے بچے اور برطانوی شہری مصباح ارم عرف مولی کیمبل بھی شریک تھیں۔ مظاہرین نے اس موقع پر حکومت اور بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کے مرکزی رہنماؤں عاصمہ جہانگیر اور سید اقبال حیدر نے خود نعرے لگوائے: ’ریاستی دہشت گردی بند کرو، ’ظالمو جواب دو‘، ’اپنے شہریوں پر ظلم بند کرو‘۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور میں بھی اس طرح خفیہ اداروں کو کھلی چھوٹ نہیں تھی کہ شہریوں کو دن دیہاڑے اٹھا لیں اور برسوں تک انہیں غائب رکھیں اور کسی عدالت میں بھی پیش نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ کسی کو بھی حراست میں رکھنا غیر آئینی ہے اور اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے بیسیوں افراد برسوں سے لاپتہ ہیں جو کہ حکومت کے لیے انتہائی شرمناک بات ہے۔

مظاہرین
مظاہرے میں مصباح ارم عرف مولی کیمبل بھی شریک تھیں

انہوں نے کہا کہ حکومت برسوں سے زیر حراست افراد کے خلاف جب تاحال کوئی الزام عائد نہیں کرسکی تو انہیں مزید حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے مطابق غائب کردہ افراد کی بے گناہی کا یہ بڑا ثبوت ہے کہ خفیہ ادارے کسی کے خلاف مقدمہ نہیں قائم کرسکے۔

انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے نمائندے نے خطاب میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پندرہ سو سے زائد کارکن لاپتہ ہیں لیکن تاحال کمیشن نے ایک سو بیس کے قریب لاپتہ افراد کی تصدیق شدہ فہرست تیار کی ہے۔

مظاہرے میں ایک بچے نے کتبہ اٹھایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا ’انکل پریزیڈنٹ پلیز فائنڈ مائی لونگ ابو‘۔ یعنی ’صدر انکل پلیز میرے پیارے ابو کو تلاش کردیں‘۔

تبلیغ جماعت کے ساتھ جاتے ہوئے راستے سے لاپتہ ہونے والے مسعود جنجوعہ، شادی کے روز ایبٹ آباد سے اٹھائے گئے اٹامک انرجی کمیشن کے ریسرچ افسر محمد عتیق سمیت چھ کے قریب لاپتہ افراد کے اہل خانہ مظاہرے میں شریک تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد