دس لاپتہ افراد کی بازیابی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے بارے میں مقدمہ ختم کرنے کے بارے میں حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ حکومت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جمعہ کو لاپتہ افراد کے متعلق مقدمے کی سماعت شروع کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ اور وزارت داخلہ میں قائم ’ کرائیسس مئنیجمینٹ سیل‘ کے کرنل عمران عدالت میں پیش ہوئے۔ حکومت کے نمائندوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اکتالیس لاپتہ افراد میں سے بیس کا پتہ چل چکا ہے جس میں سے دس کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ اکیس افراد کے بارے میں تاحال انہیں کوئی معلومات نہیں ملی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ مقدمہ نمٹادیا جائے اور حکومت باقی افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کے لیے اپنی کوشش جاری رکھے گی۔ جس پر بینچ کے ایک رکن جسٹس محمد نواز عباسی نے سوال کیا کہ کیا لاپتہ افراد پاکستان کے شہری ہیں تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا جی ہاں تو اس پر جسٹس نے کہا کہ پھر انہیں بازیاب کرانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ چیف جسٹس نے حکومتی نمائندوں کو ہدایت کی کہ لاپتہ افراد بازیاب کرانے کی ذمہ دار حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو سے رابطہ کرکے باقی مانندہ افراد کے بارے میں بھی جواب دیا جائے کیونکہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ مسز آمنہ جنجوعہ جن کے شوہر مسعود احمد جنجوعہ لاپتہ ہیں وہ بھی دوران سماعت موجود رہیں اور انہوں نے ایک موقع پر عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جن سولہ لاپتہ افراد کی فہرست عدالت میں پیش کی ہے ان میں سے سات کے بارے میں پتہ چل چکا ہے۔ ان کے مطابق ماجد خان اور سیف اللہ پراچہ گوانتانامو بے میں قید ہیں، عاطف ادریس کو لاہور کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جبکہ محمد طارق، علی شیر، عمران شمشیر، عمر صدیق اور ہدایت اللہ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل سے رہا ہوچکے ہیں۔ مسز جنجوعہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ جو لوگ رہا ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتہ افراد بھی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ جس پر عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ جو رہا ہوئے ہیں ان کا بیان حلفی لے کر عدالت میں جمع کرایا جائے۔ کرنل عمران نے عدالت کو بتایا کہ مسعود جنجوعہ کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ وہ پاکستان میں ہیں۔ ان کے مطابق ہوسکتا ہے کہ وہ افغانستان چلے گئے ہوں۔ انہوں نے بھی عدالت سے مقدمہ نمٹانے کی درخواست کی جس پر چیف جسٹس نے انہیں سخت لہجے میں کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر اس بارے میں تفصیلی جواب نہیں فراہم کیا گیا تو وہ سیکریٹری داخلہ کو غائب افراد کی بازیابی کے لیے پابند کرنے کا حکم بھی جاری کرسکتے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت پندرہ دسمبر تک ملتوی کردی اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ باقی لاپتہ اکیس افراد کے بارے میں معلومات خاص کرکے عدالت میں جواب پیش کریں۔ واضح رہے کہ چاروں صوبوں سے بیسیوں افراد کے اچانک لاپتہ ہونے کے مقدمات سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ کسی کو قومپرست سیاست کرنے اور کسی کو القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں خفیہ ایجنسیوں نے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ صوبہ سندھ کے بعض قومپرست سیاسی کارکنوں کو حال ہی میں مختلف عدالتوں میں پیش کرکے ان پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان ’لاپتہ‘ قوم پرستوں کےلیے احتجاج21 July, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان کینیڈا:’لاپتہ‘ افراد کے لیئے مظاہرہ17 September, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||