BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 June, 2005, 17:16 GMT 22:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لوگ عدلیہ سے مایوس ہیں‘

جسٹس افتخار محمد
جسٹس افتخار اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں
پاکستان کے نئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ملک کے نئے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کو ایوان صدر میں ایک تقریب کے دوران نئے چیف جسٹس سے حلف لیا۔

انہوں نے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے

ستاون سالہ جسٹس افتخار کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے اور وہ پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

وہ ساڑھے آٹھ سال بعد دو ہزار تیرہ میں ریٹائر ہوں گے۔اس کے علاوہ وہ سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلے چیف جسٹس ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

جسٹس افتخار نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اسلامیہ کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور انیس سو چوہتر میں وکالت شروع کی۔ انہیں نومبر انیس سو نوے میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا جبکہ نو سال بعد وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔سن دو ہزار میں ان کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔

پاکستان کی وزارت قانون کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین کے آرٹیکل 177 کے تحت جسٹس افتخار کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

جسٹس افتخار ایک ایسے وقت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال رہے ہیں جب وکلاء تنظیموں کی طرف سے عدلیہ پر فوجی حکمرانوں اور جمہوریت مخالف فیصلے دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

وکلاء کی دو بڑی تنظیموں پاکستان بار کونسل اور سپریم کروٹ بار ایسو سی ایشن نے پاکستان کی اعلی ترین عدالت میں کسی بھی قانونی مسئلے پر درخواستین دائر کرنے کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے کیونکہ ان تنظیموں کے مطابق پاکستان کی اعلی ترین عدالت فوجی حکمران کے زیر اثر ہے اور وہ انھی کے حق میں فیصلے صادر کرتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سن دو ہزار میں صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتے ہوئے صدر مشرف کو تین سال تک حکومت کرنے اور آئین میں ترامیم کا اختیار دیا تھا۔

جبکہ اس سال تیرہ اپریل کو سپریم کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کو بیک وقت صدر اور آرمی چیف کے عہدوں پر فائز رہے کا اختیار دیا تھا جس پر وکلاء تنظیموں نے سپریم کورٹ پر شدید تنقید کی تھی۔ جسٹس افتخار اس بنچ کا حصہ تھے جس نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔

چیف جسٹس افتخار نے بدھ کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ معاشرے میں عدلیہ جس طرح کام کر رہی ہے اس سے عام آدمی مایوس ہے اور اسے عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار نے یہ بھی کہا کہ ملکی اخبارات کے اداریوں میں اور پارلیمان میں ججوں کے احتساب کے بارے میں باتیں اور ان کے مقدمے قومی احتساب بیورو کو بھیجوانے کے مطالبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عدلیہ پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے جس سے عدلیہ کی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انصاف میں تاخیر معاشرے میں لاقانونیت اور بحران کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحیح اور غیر جانبدار انصاف ہی اس سارے مسئلے کا حل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد