عدلیہ آزاد نہیں ہے: وکلاء تنظمیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وکلا تنظیموں نے سپریم کورٹ کی طرف سے صدر جنرل پرویز مشرف کو بیک وقت دو عہدوں پر فائز رہنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وکلاء ابھی بھی صدر جنرل پرویز مشرف کو صدر اور آرمی چیف تسلیم نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد جمیل نے اس فیصلے پر کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کا قانون غیر آئینی ہے اور اس نے آئین کی بنیادی شکل کو تبدیل کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وکلاء ملک میں آئین اور جمہوریت کی مکمل بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاکستان بار کونسل کی ایگزیکیوٹو کمیٹی کے سربراہ حامد خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ عدلیہ ابھی بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کے زیر اثر ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد نہیں ہے۔ حامد خان نے کہا کہ اس کیس میں ایک غیر آئینی قانون کو آئینی قرار دینے سے پاکستان کی وکلا تنظیموں کے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ سے کسی بھی آئینی مسئلے پر رجوع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ آزاد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ اسی صورت میں آزاد ہو سکتی ہے جب فوج کو ہمیشہ کے لئے واپس بیریکوں میں بھجوا دیا جائے ورنہ عدالتیں فوجی حکومتوں کو جائم قرار دیتی رہیں گی۔ سابق ہائی کورٹ کے جج اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر طارق محمود نے کہا کہ عدلیہ نے گذشتہ ستاون سالوں میں اپنی ساکھ کھو دی ہے اور لوگوں کو عدلیہ پر اعتبار نہیں ہے کہ وہ صحیح فیصلے دے سکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں عدلیہ کی ہار ہوئی ہے۔ تاہم طارق محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پندرہ کروڑ عوام اگر ایک فوجی آمر کا راستہ نہیں روک سکتے تو وہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں سے اس بات کی توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ ایک فوجی آمر کے خلاف فیصلہ دے۔ انھوں نے کہا کہ اگر عدلیہ بالفرض صدر مشرف کے دو عہدے رکھنے کے خلاف فیصلہ دے بھی دیتی تو کیا صدر مشرف اس کو مان لیتے۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ طارق محمود نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو جس طرح بکرت بند گاڑیوں میں عدالتوں میں پیش کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ فوج کے ساتھ ٹکر لینے کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس اہم کیس میں کسی بھی وکیل کو اپنی معاونت کے لئے نہیں بلوایا اور نہ ہی ملک کی وکلاء تنظیموں کو اس کیس میں دلائل پیش لرنے کا موقع دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||