’خود ہی فریق، خود ہی منصف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کے عہدیداران نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے بارے میں درخواستوں کی سماعت نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وکلا اور ججوں میں اختلافات مزید بڑھ جائیں گے اور عدلیہ کی ساکھ بالکل ختم ہوجائے گی۔ بار کونسل کے عہدیداران نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت اپنے مفاد کے لیے آئینی درخواستوں کی سماعت کرتی ہے۔ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن حامد خان نے کہا کہ ایسی درخواستیں کسی کے کہنے پر دائر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جج اپنے مفاد کی خاطر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’سپریم کورٹ کے جج بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ انھوں نے کب ریٹائر ہونا ہے‘۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی درخواستوں کا مقصد سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا انعام ہے جو انھوں نے فوجی حکمرانوں ، لیگل فریم ورک آرڈر اور صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے حوالے سے دیے۔انہوں نے کہا کہ ہر حکمران مستقبل میں ججوں کو ریٹائرمنٹ کی عمروں میں اضافہ کرنے کا لالچ دے کر استعمال کرے گا۔ سپریم کورٹ نے تیرہ اپریل کو صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے اور سترہویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس پر وکلا برادری نے شدید تنقید کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے بارے میں درخواست کی سماعت الگ سے کرے گی۔ یہ درخواست نو مئی کو عدالت میں سنی جائے گی۔ پاکستان میں ہائی کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر باسٹھ سال جبکہ سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر پینسٹھ سال ہے۔ حامد خان نے کہا کہ بار کونسل ججوں کی عمر بڑھانے کے کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گی کیونکہ وہ ملک میں اب تک بنائے گئے تمام آئینوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے دعوٰی کیا کہ عدلیہ نہ تو اس قسم کے کسی مقدمے کی سماعت کی مجاز ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر جسٹس ریٹائرڈ فخرالنسا نے کہا کہ پنجاب کے وکلا بھی بار کونسل کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ بار کونسل کے ایک اور رکن قاضی انور نے کہا کہ ایسی درخواستیں انصاف کے اصولوں کے برخلاف ہیں اور ججوں کی حیثیت ان درخواستوں کی سماعت کے بعد متنازعہ ہو جائے گی۔ بار کونسل نے نیشنل جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ججوں، وکلا اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل اس کمیشن کے ذریعے ججوں کا احتساب کیا جائے۔ کونسل کا کہنا تھا کہ ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار غیر شفاف ہے جس کی وجہ سے ججوں کے احتساب کے لیے بنائی گئی سپریم جوڈیشل کونسل غیر مؤثر ہوگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||