BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 February, 2007, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احساس تحفظ ضروری ہے: افتخار

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری
چیف جسٹس نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا
پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جج میں احساس تحفظ ضروری ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ جج کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ انتظامیہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں بھی دے گا تو اسے برطرف نہیں کیا جا سکے گا اور اس کی مخالفانہ رائے اس کی کسی بلاجواز سزا کا سبب نہیں بنے گی۔

یہ مشترکہ اعلامیہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے پڑھ کر سنایا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطاب کر رہے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ججوں کے عہدے کی مقررہ معیاد کی ضمانت ہونی چاہیے تاکہ وہ ان مقدمات میں بھی اپنی دیانتدارانہ رائے دے سکیں جن میں ریاست کا کوئی اہم حصہ فریق ہو۔ تاہم انہوں نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا۔

جرگہ اور پنچائت
 اگرچہ پنچائت اور جرگہ سسٹم ختم کرنے کی سفارش کی جاتی ہے لیکن نوے فی صد پاکستان دیہی آبادی پر مشتمل ہے جہاں جرگے اور پنچائت اہم کردار ادا کرتے ہیں
جسٹس جاوید بٹر

چیف جسٹس نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے لیے ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جومیرٹ پر شفاف طریقہ تعیناتی کو یقینی بنائے۔

اس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی سربراہی میں چھ ورکنگ گروپ بنائے گئے تھے جنہوں نے وکلاء، بار کے عہدیداروں، تعلیم اور ذرائع ابلاغ اور دیگر مختلف شعبوں کی مشاورت سے سفارشات مرتب کیں۔

اتوار کو جاری ہونے والے اس چھ نکاتی اعلامیہ میں سفارش کی گئی ہے کہ تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں کو فروغ دیا جائے اور ان کے فیصلوں کو اہم بنانے کے لیے ضابطہ فوجداری میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بلدیاتی سطح پر قائم مصالحتی انجمنوں کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ تنازعات کا جلد فیصلہ ہواور عدلیہ پر کام کا دباؤ کم ہو سکے۔

کانفرنس کے شرکاء کی رائے تھی کہ قانون کی تعلیم کے نصاب میں تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں کو شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایل ایل بی کرنے والے طلبہ کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن،گلوبلائزیشن اور جنسی امتیاز کے متعلق بھی پڑھایا جائے۔

اعلامیہ میں کہاگیا کہ قانون کی تعلیم دینے والے نجی اداروں کی نگرانی کا نظام ہونا چاہیے تاکہ اس کےقانون کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔

جوڈیشل کانفرنس
پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مندوبین

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوامی مفاد کے مقدمات کی مناسب تشہیر ہونی چاہیے اور عدالتوں کے احاطوں میں انسانی حقوق کے سیل قائم کیے جائیں تاکہ عام آدمی کی انصاف تک رسائی ہو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت، امن، بھائی چارے اور نظام کے استحکام کے لیے آزاد عدلیہ کی موجودگی ضروری ہے جبکہ مالی اور انتظامی طور پر عدلیہ انتظامیہ کے رحم وکرم پر نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف میں تاخیر، کرپشن اور غربت ایک دوسرےکی وجہ بنتے ہیں اور اس منحوس چکر کی وجہ سے انصاف کا خون ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے نوٹ کیا ہے کہ انصاف میں تاخیر کی بھاری قیمت اصل میں غریب کو چکانا پڑتی ہے۔اس تاخیر سے غریب کا وقت اور وسائل ہی ضائع نہیں ہوتے بلکہ بین الاقوامی طورپر پوری قوم کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’جرم، نانصافی اور احساس محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔‘

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے خواتین کو معاشرے میں سب سے زیادہ غیرمحفوظ طبقہ قرار دیا اور کہا کہ عورت کو عدالتی کارروائی کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا آغاز وکیل مقرر کرنے سے ہوجاتا ہے جبکہ عدالت میں حاضری اوراس دوران تحفظ ، عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور جیل کا ماحول اس کی غیر معمولی تکالیف کا حصہ ہیں۔

قیمت غریب چکاتا ہے
 میں نے نوٹ کیا ہے کہ انصاف میں تاخیر کی بھاری قیمت اصل میں غریب کو چکانا پڑتی ہے۔اس تاخیر سے غریب کا وقت اور وسائل ہی ضائع نہیں ہوتے بلکہ بین الاقوامی طورپر پوری قوم کی ساکھ متاثر ہوتی ہے
چیف جسٹس

جسٹس جاوید بٹر نے کہاکہ اگرچہ پنچائت اور جرگہ سسٹم ختم کرنے کی سفارش کی جاتی ہے لیکن نوے فی صد پاکستان دیہی آبادی پر مشتمل ہے جہاں جرگے اور پنچائت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ’اس لیے انہیں ختم کرنے کی بجائے ان کی خامیاں ختم کی جائیں اور انہیں انصاف کے بہتر معیار پر لایا جائے۔‘

جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ عوام میں مفاد عامہ کے مقدمات کے بارے میں شعور کو بڑھانے کے لیے آڈیو ویڈیو اور پرنٹ میڈیا کا استعال کیا جائے۔

سیکرٹری قانون و انصاف کمشن ڈاکٹر فقیر حسین نے کانفرنس کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس کے تسلسل سے انعقاد کے ذریعے ملک میں قانون کی بالادستی اور غیر جانبدار انصاف کو رائج کرنے میں مدد ملے گی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کانفرنس ہر برس ہوگی، ہر نئی کانفرنس میں گذشتہ کانفرنس میں کیے گیے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کا نفاذ یقینی بنائے جانے کے اقدامات کیےجائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد