BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 December, 2006, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیروں کی رہائی، چیف جسٹس برہم

سپریم کورٹ
چیف جسٹس نے کہا ہے کہ متعلقہ قوانین کا امتیازی اطلاق نہیں ہونا ہونا چاہیے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بدعنوانی کے مقدمات میں سزائیں پانے والے بلوچستان کے چار سابق وزراء کی ’پیرول‘ پر رہائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ قوانین کا امتیازی اطلاق نہیں ہونا ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جب قومی احتساب بیورو کے ملزمان جیل میں نہیں ہوں گے تو پھر اور کون ہوگا؟۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں پیرول پر رہائی کے صوبائی قوانین کے نقائص دور کریں تاکہ ان کا امتیازی اطلاق نہ ہوسکے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے سابق وزرا کی پیرول پر رہائی کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو تین سابق وزراء عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں وکیل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔

عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے مزید سماعت بدھ چھ دسمبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے ایک سابق وزیر میر فائق علی جمالی کے، جوکہ سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے قریبی عزیز ہیں، عدالتی حکم کے باوجود بھی غیر حاضر رہنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت پر حاضر ہوں ۔

قومی احستاب بیورو کے ایڈووکیٹ شاہد نے پیرول پر رہائی پانے والے وزراء کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر بہرام خان اچکزئی کو انیس برس قید اور چونتیس کروڑ روپے جرمانے کی سزا ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق فائق علی جمالی کو اڑتیس برس قید اور سو چھ کروڑ روپے جرمانہ، عبدالحفیظ لونی کو دس برس قیدپانچ کروڑ روپے جرمانہ اور سردار نثار علی ہزارہ کو چار سال قید ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا مل چکی ہے۔

بلوچستان حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمود رضا پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک سمری بھیج رہی ہے جس میں ان کی پیرول پر رہائی کے بارے میں فیصلہ ہونا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بلوچستان کی ایک جیل میں بدعنوانی کے مقدمے میں سزا یافتہ ایک سرکاری ملازم نیر اقبال کی درخواست کے بعد ازخود کارروائی کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت شروع کی ہے۔

نیر اقبال کو نیب کے مقدمے میں دس برس قید اور جرمانے کی سزا ملی ہے اور انہیں جب پیرول پر رہائی نہیں ملی تو انہوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ ایک طرف بااثر وزراء کو پیرول پر رہائی ملی ہے لیکن انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔

اسی بارے میں
حکومتی ارکان کو خصوصی فنڈز
19 October, 2006 | پاکستان
کرپشن اور عدلیہ
15 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد