حکومتی ارکان کو خصوصی فنڈز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت نے حکومتی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے ایسی ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز جاری کرنا شروع کردیے ہیں جو رواں مالی سال کے بجٹ میں شامل نہیں تھیں۔ تاہم پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ حکومتی ارکان اسمبلی ترقیاتی اسکیموں کی تجاویز تو وزیراعلی کو دیتے رہتے ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ ہر رکن اسمبلی کے صوابدید پر ایک مخصوص رقم مختص کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی کی ہدایت پر حکومتی ارکان صوبائی اسمبلی کے لیے پانچ کروڑ روپے اور قومی ارکان اسمبلی کے لیے تین کروڑ روپے تک کی مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے پیسے جاری کیے جارہے ہیں۔ اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتحابات کے چار سال بعد صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مہیا کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سیکریٹریٹ میں متعین سات ڈپٹی سیکرٹریوں میں پنجاب کے پینتیس اضلاع کا کام تقسیم کردیا گیا ہے جو ان اضلاع کے سرکاری ارکان اسمبلی کے معاملات پر وزیراعلی کی جانب سے افسروں کو تحریری ہدایات (ڈائریکیٹوز) جاری کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی زیادہ تر نالیوں اور گلیوں کی تعمیر، پینے کی پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کی اسکیمیں منظور کروارہے ہیں اور زیادہ تر اسکیمیں مقامی حکومتوں (ٹی ایم اوز وغیرہ) کے اداروں کے ذریعے تعمیر کی جارہی ہیں۔ ایک سو چالیس سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی اور ڈھائی سو سرکاری ارکان اسمبلی کی اسکیموں پر پنجاب حکومت کو تقریبا دس ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے جنہیں اگلے مالی سال کے بجٹ کے موقع پر صوبائی اسمبلی سے فاضل بجٹ کی صورت میں منظور کرایا جاسکتا ہے۔ ارکان اسمبلی کو ان کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے مہیا کردہ یہ رقوم اس بجٹ کے علاوہ ہیں جو منظور شدہ بجٹ میں تمام صوبائی ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے تعمیر وطن کے نام سے مختص کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اس مد میں پنجاب حکومت نے تقریبا دو ارب روپے خرچ کیے تھے۔ پنجاب حکومت کا رواں مالی سال میں ترقیاتی بجٹ ایک سو ارب روپے مالیت کا ہے۔ عام طور پر سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے پندرہ بیس فیصد حصہ خرچ نہیں ہو پاتا۔
پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان اسمبلی کی صوابدید پر پانچ پانچ کروڑ روپے مختص کرنے کی بات بے بنیاد ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ارکان اسمبلی پینے کے پانی، بجلی اور سڑکوں کے لیے اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز وزیراعلی کو دیتے رہتے ہیں۔ گزشتہ چار سال میں پہلی مرتبہ پنجاب حکومت کا حکومتی ارکان اسمبلی کے لیے خصوصی طور پر خطیر وسائل مہیا کرنا اس بات کا اشارہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے آئندہ عام انتخابات کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں موجودہ اسمبلیوں کی پانچ سالہ مدت مکمل ہوجائے گی جس کے بعد عام انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت اس مدت کے پوری ہونے سے پہلے بھی کسی وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرسکتی ہے۔ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اہم نعرہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں عام طور سے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جانے والی رقم کا پچیس سے تیس فیصد حصہ بدعنوانی اور کمیشنوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ15 May, 2006 | پاکستان ’پنجاب ترقیاتی بجٹ دگنا‘13 June, 2006 | پاکستان پنجاب کے ارکان: جرنیلوں پر تنقید16 June, 2006 | پاکستان وزراء کی گاڑیوں پر 5 کروڑ روپے خرچ11 October, 2006 | پاکستان پنجاب کے تمام مشیر برطرف18 October, 2006 | پاکستان ایم کیو ایم کا پنجاب میں پہلا قدم16 August, 2006 | پاکستان پنجاب: 500 افراد پر مقدمات 24 July, 2006 | پاکستان پنجاب میں بارشیں، بیس ہلاک03 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||