BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی ارکان کو خصوصی فنڈز

یہ فنڈز حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی کو مہیا نہیں کیے جارہے
پنجاب حکومت نے حکومتی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے ایسی ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز جاری کرنا شروع کردیے ہیں جو رواں مالی سال کے بجٹ میں شامل نہیں تھیں۔

تاہم پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ حکومتی ارکان اسمبلی ترقیاتی اسکیموں کی تجاویز تو وزیراعلی کو دیتے رہتے ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ ہر رکن اسمبلی کے صوابدید پر ایک مخصوص رقم مختص کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی کی ہدایت پر حکومتی ارکان صوبائی اسمبلی کے لیے پانچ کروڑ روپے اور قومی ارکان اسمبلی کے لیے تین کروڑ روپے تک کی مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے پیسے جاری کیے جارہے ہیں۔

اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتحابات کے چار سال بعد صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مہیا کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سیکریٹریٹ میں متعین سات ڈپٹی سیکرٹریوں میں پنجاب کے پینتیس اضلاع کا کام تقسیم کردیا گیا ہے جو ان اضلاع کے سرکاری ارکان اسمبلی کے معاملات پر وزیراعلی کی جانب سے افسروں کو تحریری ہدایات (ڈائریکیٹوز) جاری کرتے ہیں۔

یہ رقوم اس بجٹ کے علاوہ ہیں
 ارکان اسمبلی کو ان کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے مہیا کردہ یہ رقوم اس بجٹ کے علاوہ ہیں جو منظور شدہ بجٹ میں تمام صوبائی ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے تعمیر وطن کے نام سے مختص کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اس مد میں پنجاب حکومت نے تقریبا دو ارب روپے خرچ کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق اس ماہ سے وزیراعلی سیکریٹریٹ نے ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے وسائل مہیا کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو وزیراعلی کے احکامات (سی ایم ڈائریکٹوز) جاری کرنے شروع کردیے ہیں اورارکان کو فنڈز کا اجرا شروع ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی زیادہ تر نالیوں اور گلیوں کی تعمیر، پینے کی پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کی اسکیمیں منظور کروارہے ہیں اور زیادہ تر اسکیمیں مقامی حکومتوں (ٹی ایم اوز وغیرہ) کے اداروں کے ذریعے تعمیر کی جارہی ہیں۔

ایک سو چالیس سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی اور ڈھائی سو سرکاری ارکان اسمبلی کی اسکیموں پر پنجاب حکومت کو تقریبا دس ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے جنہیں اگلے مالی سال کے بجٹ کے موقع پر صوبائی اسمبلی سے فاضل بجٹ کی صورت میں منظور کرایا جاسکتا ہے۔

ارکان اسمبلی کو ان کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے مہیا کردہ یہ رقوم اس بجٹ کے علاوہ ہیں جو منظور شدہ بجٹ میں تمام صوبائی ارکان اسمبلی کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے تعمیر وطن کے نام سے مختص کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اس مد میں پنجاب حکومت نے تقریبا دو ارب روپے خرچ کیے تھے۔

پنجاب حکومت کا رواں مالی سال میں ترقیاتی بجٹ ایک سو ارب روپے مالیت کا ہے۔ عام طور پر سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے پندرہ بیس فیصد حصہ خرچ نہیں ہو پاتا۔

ارکان اسمبلی کی صوابدید سے انکار
 حکومتی ارکان اسمبلی کی صوابدید پر پانچ پانچ کروڑ روپے مختص کرنے کی بات بے بنیاد ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ارکان اسمبلی پینے کے پانی، بجلی اور سڑکوں کے لیے اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز وزیراعلی کو دیتے رہتے ہیں۔
وزیر قانون راجہ بشارت
حکومتی ارکان اسمبلی کے تجویز کردہ منصوبوں پر خرچ کی گئی رقوم کی منظوری فاضل بجٹ کی صورت میں اگلے مالی سال کے بجٹ میں حاصل کی جائے گی۔

پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان اسمبلی کی صوابدید پر پانچ پانچ کروڑ روپے مختص کرنے کی بات بے بنیاد ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ارکان اسمبلی پینے کے پانی، بجلی اور سڑکوں کے لیے اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز وزیراعلی کو دیتے رہتے ہیں۔

گزشتہ چار سال میں پہلی مرتبہ پنجاب حکومت کا حکومتی ارکان اسمبلی کے لیے خصوصی طور پر خطیر وسائل مہیا کرنا اس بات کا اشارہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے آئندہ عام انتخابات کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔

اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں موجودہ اسمبلیوں کی پانچ سالہ مدت مکمل ہوجائے گی جس کے بعد عام انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت اس مدت کے پوری ہونے سے پہلے بھی کسی وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرسکتی ہے۔

پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اہم نعرہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں عام طور سے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جانے والی رقم کا پچیس سے تیس فیصد حصہ بدعنوانی اور کمیشنوں کی نذر ہوجاتا ہے۔

پنجاب اسمبلیہاؤسنگ فراڈ
پنجاب میں سوسائیٹیوں کے خلاف تحقیقات
پولیس کی گاڑیوں پر لگائی جانے والی بتیاں’بتیاں اتار دیں‘
ارکان پنجاب اسمبلی کا استحقاق بتیوں سے؟
 قومی اسمبلی اے کی گل اے؟
پنجاب کے ایم این ایز کی جرنیلوں پر تنقید
شجاعت اور ’بغاوت‘
شجاعت کے خلاف 35 ارکان کی ’بغاوت‘
 فوجگیارہ حساس اضلاع
پنجاب کے اٹھارہ میں سے گیارہ اضلاع میں فوج
اسی بارے میں
پنجاب کے تمام مشیر برطرف
18 October, 2006 | پاکستان
پنجاب: 500 افراد پر مقدمات
24 July, 2006 | پاکستان
پنجاب میں بارشیں، بیس ہلاک
03 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد