’سوسائیٹیوں کے خلاف تحقیقات‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے صوبائی وزیر کوآپریٹو (امداد باہمی) ملک محمد انور نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے محکمہ نے پنجاب کی پندرہ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی شکایات پر تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور بارہ کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں کُل دو سو اٹھاسی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں جن میں سے ایک سو چون صرف لاہور میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سوسائٹیاں امداد باہمی کے ایکٹ مجریہ انیس سو پچیس کے تحترجسٹرارا کوآپریٹو کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ قانون کے تحت رجسٹرار کے پاس ان کی نگرانی اور ان کے فنڈز کے آڈٹ کرانے کے اختیارات ہیں۔ وزیر کوآپریٹو کے مطابق لاہور کی ایک سو چون ہاؤسنگ سوسائٹیاں شہر کے ایک لاکھ سولہ ہزار نو سو چوراسی کنال رقبہ پر مشتمل ہیں اور اب تک تہتر ہزار پلاٹ ترقیاتی کام مکمل کرکے ارکان کو الاٹ کرچکی ہیں۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت انیس سو چھیانوے کے بعد سے اب تک کوئی نئی ہاوسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ نہیں کی گئی سوائے رینجرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے جو بند ہوچکی ہے اور لاہور میں صحافیوں کی جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے۔ ان کی منظوری وزیراعلی پنجاب نے صوابدیدی اختیارات کے تحت پابندی میں نرمی کرکے دی۔ وزیر کوآپریٹو ملک انور نے کہا کہ جن ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف باہمی امداد کے ایکٹ مجریہ انیس سو پچیس کی دفعہ تینتالیس کے تحت تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں ان میں بے قاعدگیاں سامنے آئیں جیسے بعض نے پارک یا اسکول کےلیے مختص جگہ کو رہائشی پلاٹ بنا کر بیچ دیا یا رہائشی علاقہ کو تجارتی پلاٹ بنا کر فروخت کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو رجسٹرار نے نوٹس جاری کردیے ہیں اور اب ان کا موقف سنا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی چند ہاؤسنگ سوسائیٹیوں جیسے ایوان صدر ہاؤسنگ سوسائٹی، واپڈا انجینئرز ہاؤسنگ سوسائٹی اور یوٹیلیٹی اسٹورز ہاؤسنگ سوسائٹی میں بدعنوانیوں کی تحقیقات مکمل کرکے ان کے مقدمے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر کوآپریٹو نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے لاہور میں اسٹیٹ لائف ہاؤسنگ سوسائٹی میں زمین خریدے بغیر لوگوں کو پلاٹ بیچنے کی متعدد شکایات ملی تھیں جس پر رجسٹرار نے اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے فنڈز منجمد کردیے تھے اور اس کی مکمل تحقیقات کی تھیں۔ ملک انور نے کہا کہ بعد میں اسٹیٹ لائف سوسائٹی نے زمین خریدنا شروع کی تو اس زمین کی قیمت کے برابر اس کے فنڈز جاری کیے گئے اور وہ بھی یہ تحقیق کرنے کے بعد کہ سوسائٹی واقعی زمین خریدنے کے لیے ادائیگی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس سوسائٹی کے فنڈز بحال کردیے گئے ہیں اور اس کا معاملہ صاف ہوگیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ انیس سو پچیس میں امداد باہمی کے اداروں کا قانون یہ سوچ کر بنایا گیا تھا کہ ایسی سوسائٹیاں بنانے کے لیے لوگوں کو ترغیب دی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے لیکن لوگوں نے ان امداد باہمی کے اداروں کا ناجائز استعمال بھی کیا اور اس کے سقم کو اپنے فائدہ کے لیے استعمال کیا جس کی ایک مثال انیس سو نوے کی دہائی میں فنانس کوآپریٹو سوسائیٹیوں کا اسکینڈل تھا۔ وزیر کوآپریٹو نے کہا کہ ان کے محکمہ نے انیس سو پچیس کے کوآپریٹو ایکٹ میں سقم دور کرنے اور اس میں ترامیم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہنے والے لوگوں کے نمائندے، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی انتظامیہ کے نمائندے اور پراپرٹی ڈیویلپرز بھی شامل تھے۔ وزیر نے کہا کہ اس کمیٹی نے کوآپریٹو قانون میں ترمیم کے لیے اپنی رپورٹ بنا کر محکمہ کو دی جس پر محکمہ قانون نے بھی نطر ثانی کرلی ہے۔ اب یہ مسودہ کابینہ ڈویژن کے پاس ہے اور جلد کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ وزیر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اگلے اجلاس میں کوآپریٹو ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کردیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نئی ترامیم کا مطمع نطر یہ ہے کہ عام آدمی کی کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کی گئی سرمایہ کاری محفوظ بنائی جائے تاکہ اسے یہ ڈر نہ رہے کہ اس کا پیسہ ڈوب جائے گا اور سوسائٹی والے اس کے ساتھ ہیر پھیر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیمی قانون میں یہ بات لازمی بنائی جائے گی کہ جب تک کسی سوسائٹی کے پاس زمین کی ملکیت نہ ہو وہ پلاٹوں کی خرید و فروحت نہ کرسکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کےمحکمہ نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے ماڈل بائی لاز بھی تیار کیے ہیں اور ان کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے بائی لاز اسی طرز پر بنائیں کیونکہ وزیر کے مطابق زیادہ تر گھپلے بائی لاز کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ پہلے کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی یہ بائی لاز بنانے میں خود مختار تھی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک پنجاب کی تراسی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں یہ ماڈل بائی لاز اختیار کرچکی ہیں۔ تاہم صوبائی وزیر کوآپریٹو ملک انور نے کہا کہ ان کےمحکمہ کے دائرہ اختیار میں صرف ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں آتی ہیں جو امداد باہمی کے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں جبکہ نجی شعبہ میں پراپرٹی ڈیویلپرز کی ہاؤسنگ اسکیمیں جیسے بحریہ ٹاون اور ایڈن گروپ وغیرہ ان کے محکمہ کی نگرانی یا ریگولیشن کے دائرہ سے باہر ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||