ڈیفنس ہاوسنگ میں بدعنوانیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) نے پہلی بار پاکستان فوج کے زیر انتظام لاہور کی سب سے مہنگی اور وسیع و عریض ہاؤسنگ اسکیم میں بدعنوانیوں کی تحقیقات ہونے کی تصدیق کی ہے۔ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیم میں فوجی ملازمین کو بہت کم نرخوں پر رہائشی پلاٹ دیے جاتے ہیں جو آٹھ سے دس گُنا زیادہ قیمتوں پر بازار میں فروخت ہوتے ہیں۔ ڈیفنس لاہور کا سب سے مہنگا ترین رہائشی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ لاہور ڈیفنس اتھارٹی کے چئرمین بریگیڈئر فضل نور نے جمعرات کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ڈیفنس میں بدعنوانیوں کی شکایات ملنے کے بعد تحقیقات کی جارہی ہیں لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے الزام تراشی مناسب نہیں۔ فضل نور کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کی انتظامیہ میں تبدیلی اہلکاروں کی مدت پوری ہونے پر ہوئی اور جب یہ تبدیلی ہورہی تھی تو بدعنوانیوں کی شکایات ملنا شروع ہوئیں۔ اتھارٹی کے چئرمین نے کہا کہ جب سے موجودہ انتظامی تبدیلیاں ہوئی ہیں ڈیفنس اتھارٹی میں پلاٹوں کی ریکارڈ خرید و فروخت ہوئی ہے۔ چئرمین نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ لاہور میں نئی بنائی جانے والی دو ہاؤسنگ اسکیموں، ای ایم ای اور رینجرز ہاؤسنگ سوسائٹی، کو ڈیفنس میں ضم کیا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ سے یہ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ ڈیفنس اتھارٹی کی انتظامیہ میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیاں سابقہ اہلکاروں پر بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کی وجہ سے کی گئیں تھیں اور یہ کہ اس بڑے پیمانے پر کی جانے والی مبینہ بدعنوانی میں فوج کے چند اعلی افسر بھی زیر تفتیش ہیں جن کے گھروں سے کروڑوں روپے برآمد کیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||