BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 October, 2004, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں ’صوابدیدی پلاٹ‘

اسلام آباد
اسلام آباد میں پراپرٹی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں
پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو یا وزراء اعظموں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت اسلام آباد میں پانچ سو انچاس، فوجی و سول افسران، کھلاڑیوں اور سیاستدانوں سمیت مختلف لوگوں کو پلاٹ الاٹ کیے۔

یہ معلومات سینیٹر رضا محمد رضا کے سوال پر وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بدھ کے روز ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کردہ اپنے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔ انہوں نے پلاٹ حاصل کرنے والوں کی فہرست بھی ایوان میں پیش کی۔

ستائیس اکتوبر کو حکومت کی پیش کردہ فہرست کے مطابق خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل نے بلحاظ عہدہ آٹھ پلاٹ سن انیس سو چورانوے میں اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو سے صوابدیدی اختیارات کے تحت الاٹ کرائے۔

صوابدیدی اختیارات کے تحت سب سے زیادہ پلاٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار میں دیئے گئے جن کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے دور میں دو سو سے زیادہ پلاٹ الاٹ کیے گئے۔مسلم لیگ کے دور کے اعداد وشمار میں صدر ضیاءالحق اور غلام مصطفیٰ جتوئی کی نگران حکومتوں کا کچھ عرصہ بھی شامل ہیں۔

اپنے نام پر پلاٹ لینے والے دیگر فوجی افسران میں جنرل عبدالوحید کاکڑ، جنرل شمیم عالم خان، ایڈمرل سعید محمد خان، ایڈمرل یستور الحق ملک، ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان، ایڈمرل افتخار احمد سروہی، لیفٹیننٹ جنرل ذاکر علی زیدی، برگیڈیئر حامد نواز اور دیگر فوجی افسران شامل ہیں۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے اس وقت کے ’اے ڈی سیز، لیفٹیننٹ کرنل تاج اور عبدالحئی، سکواڈرن لیڈر اقبال محمود، لیفٹیننٹ کمانڈر شوکت علی اور کیپٹن عثمان ذکریا بھی پلاٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ہاکی کے کھلاڑی قاسم ضیاء، حسن سردار، شہباز احمد اور محمد شہباز جونیئر کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں سمیت ہاکی کے کوچ ذکاء الدین نے بھی وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات کے تحت پلاٹ حاصل کیے۔جبکہ سکواش کے چیمپیئن جہانگیر خان اور جان شیر خان بھی مستفیض ہونے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستانی کرکٹرز میں سے عمران خان، عامر سہیل، رمیز راجہ، جاوید میانداد، اقبال سکندر، عاقب جاوید، انضمام الحق، اعجاز احمد، سلیم ملک، وسیم اکرم اور کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ انتخاب عالم اور دیگر کو انیس سو بانوے میں اسلام آباد میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے صوابدیدی اختیارات کے تحت پلاٹ دیے تھے۔

پاکستان کے سویلین افسران میں سے سلمان فاروقی اور ارشاد سمیع خان نے اپنے نام جبکہ بی اے قریشی نے اپنے بیٹے کے نام پلاٹ الاٹ کرائے۔

انیس سو اٹھاسی میں سپین میں متحدہ عرب امارت کے سفیر جناب سعید علی ال نوویس اور سلیم بن محمد ال خوشابی نامی ایک عرب باشندے کو بھی اسلام آباد میں پلاٹ دیے گئے۔

میر ظفراللہ جمالی،گوہر ایوب خان، چودھری امیر حسین، ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی، مقبول احمد اور مقصود احمد خان لغاری، سردار غلام محمد خان مہر، مولانا سمیع الحق، ایم پی بھنڈارا، احمد میاں سومرو نے بھی وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات کے تحت پلاٹ حاصل کیے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں اراکین اسمبلی میر مہران خان بجارانی، نور جہاں پانیزئی، فیروز الدین انصاری، پیر محمد اشرف، امان اللہ خان شاہانی، بیگم عشرت اشرف، علامہ مصطفیٰ ال ازہری، چودھری محمد نواز بوسال، رانا شوکت حیات نون، پرنس جام محمد یوسف، سینیٹر اصغر علی شاہ، منیر آفریدی سمیت کئی اراکین پارلیمینٹ نے بھی پلاٹ حاصل کیے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹو، اسلام آباد کے سیکٹر ’جی ٹین ٹو، میں کراچی کے رہائشی محمد یوسف کو پانچ سو گز کا پلاٹ صوابدیدی اختیارات کے تحت الاٹ کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد