BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 July, 2004, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف کا زرعی پلاٹ

جنرل مشرف کا یہ پلاٹ انیس سو نناوے میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کے علاوہ ہے
جنرل مشرف کا یہ پلاٹ انیس سو نناوے میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کے علاوہ ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ سال اسلام آباد کے ایک خوبصورت علاقے میں پانچ ایکٹر کا زرعی پلاٹ خریدا جب کے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ نے ’فارم ہاؤس‘ کے دو پلاٹ فروخت کیے۔

جنرل مشرف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے پلاٹس کے بارے میں یہ تفصیلات قومی اسمبلی میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران ایوان کے سامنے پیش کی گئی۔

قومی اسمبلی میں ان پلاٹو ں کی قیمت نہیں بتائی گئی تاہم مارکیٹ میں صدر مشرف کے پلاٹ کی قیمت پانچ کروڑ روپے اور آئی ایس آئی کے دو پلاٹوں کی قیمت دس کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے پیش کیے گئے ریکارڈ کےمطابق جمیل نشتر کی بیوہ رفعت جمیل نے صدر جنرل پرویز مشرف کے نام ستمبر سن دو ہزار تین میں پانچ ایکڑ کا پلاٹ کا انتقال کرایا۔ یہ پلاٹ نمبر سی ون پی اینڈ وی سکیم دو پارک روڈ ترلائی کلاں چک شہزاد میں ہے۔ اس پلاٹ کی مارکیٹ میں قیمت کروڑوں میں ہے اور یہ ان اثاثوں کے علاوہ ہے جن کا صدر مشرف نے نومبر انیس سو ننانوے میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی سن دو ہزار تین اور چار میں ڈھائی ایکڑ کے دو پلاٹوں کا انتقال کرایا۔

اسمبلی کو بتایا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے جنوری سن دو ہزار چار میں پلاٹ نمبر گیارہ اے آرچرڈ اسکیم مری روڈ اسلام آباد پر واقع ڈھائی ایکڑ کا پلاٹ مسز ارم زمان زوجہ بابر زمان کے نام منتقل کرایا۔

آئی ایس آئی کے سربراہ نے بائیس اپریل سن دو ہزار چار میں ڈھائی ایکڑ کا دوسرا پلاٹ نمبر گیارہ واقع آرچرڈ اسکیم مری روڈ بابر زمان ولد اقبال احمد کے نام منتقل کیا۔ صرف دو دن بعد بابر زمان نے یہ پلاٹ عالیہ عامر عباسی زوجہ عامر عباسی کے نام منتقل کردیا۔

وزارت داخلہ نے اس سوال کے جواب میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ کیا یہ پلاٹ رہائشی مقاصد کےلیے استعمال کیے جارہے ہیں اور کیا وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے قوانین کی خلاف ورزی پر اس ضمن میں کوئی کارروائی کی گئی۔

رکن اسمبلی محمود اچکزئی نے سوال کیا کہ آئی ایس آئی کے اس ڈائریکٹر جنرل کا نام بتایا جائے تو پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ نے کہا کہ وہ اس کےلیے نیا سوال اسمبلی میں جمع کرائیں تب نام بتایا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے رکن اعتزاز احسن نے کہا کہ بتایا جائے کہ پلاٹ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے نام تھے یا ادارہ کے نام تھے اور اگر یہ فرد کے نام تھے تو ان کا نام جواب میں دیا جانا تھا اور اگر ادارہ کے نام تھے تو وہ ایک فرد کے نام منتقل کیسے ہوگئے۔

انہوں نے پلاٹ خریدنے والوں کی تفصیل بھی ایوان کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی جی آیی ایس ائی نے دونوں پلاٹ بابر زمان کے خاندان کے نام منتقل کیے گئے ایک میاں کےنام (بابر زمان) اور دوسرا بیوی (ارم زمان) کے نام۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہےکہ یہ آئی ایس آئی کے فرنٹ مین ہیں۔

رکن اسمبلی عابد شیر علی نے ان تمام جنرلوں کے نام ایوان میں لانے کے کا مطالبہ کیا جنہیں پلاٹ الاٹ کیے گۓ ہیں۔

سوال کے جواب میں بتایاگیا کہ سن دو ہزار تین اور چار میں اٹھائیس پلاٹوں کا انتقال کرایا گیا۔

حکمران جماعت اور حزب مخالف دونوں کے ارکان نے جنرل مشرف کےنام زرعی اراضی کا انتقال اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے پلاٹ منتقل کرانے کے معاملہ پر تنقید کی۔

پاکستان مسلم لیگ کے رکن رشید اکبر نے کہا کہ جب سیاستدان پلاٹ خریدتے ہیں تو ان کو بدعنوان کہا جاتا ہے لیکن ان پلاٹوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ داخلہ کے پارلیمانی سیکرٹری ثنا اللہ خان مستی خیل کو سوالوں کے جواب دینے میں مشکل پیش آئی۔

رکن اسمبلی رؤف مینگل نے اسپیکر سے کہا کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں جو پلاٹوں کی خرید و فروخت کی تحقیات کرے۔

یاد رہے کہ صدر جنرل پرویزمشرف ایک سال پہلے قومی اسمبلی کے ارکان کو غیرمہذب قرار دے چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد