BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر کریک ڈاؤن

فائل فوٹو
پاک بھارت تعلقات میں بہتری سے لاہور میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ رضا علی گیلانی نے بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ یکم جولائی سے پنجاب حکومت ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کریک ڈاؤن یا کاروائی شروع کردے گی جو مجاز اتھارٹی سے منظوری لیے بغیر پلاٹوں کی فائلیں بیچ رہی ہیں۔

اس وقت لاہور میں کئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں زمین خریدے بغیر کاغذوں پر زمین ظاہر کرکے لوگوں کو الاٹمینٹ لیٹر جاری کررہی ہیں جنہیں عرف عام میں فائل کہا جاتا ہے۔

اربوں روپے کی یہ فائلیں ایک طرح کا سٹہ کا کاروبار بن چکی ہیں جن میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک اندازے کے مطابق کئی سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ ہاؤسنگ ریگولیشن میں ترمیمی قانون کے تحت جب تک کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی ڈویلیپمنیٹ اتھارٹی جیسے ایل ڈی اے وغیرہ سے منظور نہیں ہوجائے گی اور این او سی (اجازت نامہ) نہیں لے گی اس وقت تک وہ اپنے پلاٹ بیچنے کا اعلان نہیں سکے گی اور اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کے خلاف مقامی حکومتوں کے آرڈیننس کے تحت کاروائی کرکے اس کے اکاؤنٹ منجمد کردیے جائیں گے۔

وزیر ہاؤسنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ میں سنہ دو ہزار ایک میں نو ستمبر کے واقعات کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کا بڑا حصہ زمین میں لگا۔ علی رضا گیلانی نے کہا کہ بھارت سے پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے اور لاہور میں رنگ روڈ منصوبہ شروع ہونے سے بھی یہاں زمینوں کی قیمتیں بہت بڑھ گئیں اور لاہور کی زمین کو نجی سرمایہ کاری کے لیے منتخب کیا گیا۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ پنجاب میں ہر سال دو لاکھ ستر ہزار نئے مکانوں کی ضرورت پیدا ہوتی ہے اور یہ ضرورت نجی شعبہ اور سرکاری شعبہ کے مشترکہ تعاون سے ہی پوری کی جاسکتی ہے اس لیے حکومت نے ہاؤسنگ کے شعبہ میں نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں اس شعبہ میں لے کر آئی۔

وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ حکومت یہ نہیں چاہتی تھی کہ ہاؤسنگ کے شعبہ میں نجی شعبہ کی حوصلہ شکنی کرے لیکن یہ دیکھا گیا کہ مکانوں کی قیمتیں تو کم ہونے کے بجائے بڑھ گئیں اور نجی شعبہ پلاٹوں اور فائلوں کی خرید و فروخت پر لگ گیا۔

وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ ان سوسائٹیوں میں کوئی لین دین کا حساب نہیں، کسی ادارہ کی منظوری نہیں اور کسی نجی پارٹی کا ایک ٹکا تک نہیں لگا۔ اس لیے حکومت نے ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کام کاج کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا اور ہاؤسنگ سے متعلق قانون میں تبدیلیاں کیں۔

علی رضا گیلانی نے کہا کہ ہاؤسنگ ریگولیشنز میں نئی ترمیم کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے ایکویزیشن ایکٹ کے تحت سرکاری نرخ پر زمین حاصل کرنے کی شق ختم کردی گئی ہے اور اب نئے قانون کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو زمین مارکیٹ کے نرخ کے مطابق خریدنا پڑے گی۔

وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ نئے قانون کے تحت ایک سوسائٹی اسی فیصد زمین خود خریدے گی اور اس سوسائٹی کی منظوری لے گی اور اگر باقی بیس فیصد زمین خریدنے میں اسے دشواری ہوئی تو حکومت وہ زمین اس سوسائٹی کے لیے حاصل تو کرے گی لیکن مارکٹ کے نرخ پر۔

وزیر ہاوسنگ نے کہا کہ قانون کے مطابق کام نہ کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے جو تیس جون کو ختم ہوجائے گی اور یکم جولائی سے کریک ڈاؤن شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ترقیاتی ادارہ (ایل ڈی اے) سے منظوری لیے بغیر کام کرنے والی سوسائٹیوں کے خلاف پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ اتھارٹی کے قانون، ایل ڈی اے ایکٹ، سٹی ڈویلیپمینٹ ایکٹ اور نیب کے قوانین کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

اس وقت لاہور شہر میں ایل ڈی سے سے حتمی طور پر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعداد ایک سو تین ہے جبکہ چھیاسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو لاہور ترقیاتی ادارہ نے صرف تکنیکی منظوری دی ہے۔ لاہور کینٹ میں کام کرنے والی ہاوسنگ سوسائٹیاں اس کے علاوہ ہیں۔

لاہور کینٹ میں ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اب تک نو فیز کا اعلان کرچکی ہے جبکہ صرف ترقیاتی کام صرف پانچ فیز تک ہوئے ہیں اور فیز چھ سے فیز نو تک صرف کھیت ہیں جن کا رقبہ کاغذوں میں پلاٹوں میں تقسیم کرکے الاٹمینٹ فائلوں کی صورت میں بیچ دیا گیا ہے لیکن زمین پر پلاٹوں کی نشان دہی نہیں ہوئی اور کوئی ترقیاتی کام بھی موجود نہیں۔

ایل ڈی اے کے قانون کے مطابق ادارہ کسی بھی منظور شدہ سوسائٹی کے کل پلاٹوں میں سے تیس فیصد پلاٹ اپنے پاس گروی رکھتا ہے تاکہ اگر سوسائٹی ترقیاتی کام وقت پر نہ کرے تو ایل ڈی اے وہ پلاٹ بیچ کر ترقیاتی کام کرواسکے۔

چند ماہ پہلے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پلاٹوں کی فائلوں میں کی گئی بدعنوانی کی خبروں کی اتھارٹی کی نئی انتظامیہ نے تصدیق کی تھی۔ لاہور کے چند بڑے بڑے پراپرٹی ڈیلر جو ڈیفنس کے پلاٹ اور فائلیں بیچنے کا کام کرتے ہیں ان کے دفاتر مہربند کردیے گئے تھے اور پرانی انتظامیہ کے آٹھ لوگوں کا تبادلہ کردیا گیا تھا جس میں بریگیڈیر کے عہدے کے افسر بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد