25 سرکاری مکانات مذہبی مقاصد کیلیے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت نے پچیس سرکاری مکانات ’مذہبی مقاصد‘ کے لیے مختلف دینی مدارس اور اسلامی تنظیموں کو ’الاٹ، کر رکھے ہیں۔ یہ بات پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ سید صفوان اللہ نے پیش کردہ معلومات میں بتائی ہے۔ وزیر کے مطابق بیشتر مکانات حاجی حنیف طیب نے بطور وزیر ہاؤسنگ الاٹ کیے تھے۔ سینیٹ میں پیش کردہ معلومات میں ایک فہرست بھی شامل ہے جس میں مکان نمبر اور مکان حاصل کرنے والے مدرسے اور تنظیم کے نام بھی درج ہیں۔ فہرست کے مطابق انجمن محمدیہ بلتستان کو سن انیس سو اکہتر میں مسجد کے لیے سیکٹر جی سکس ون میں ایک مکان مفت میں الاٹ کیا گیا ہے۔ جبکہ سیکٹر جی سکس ٹو میں مدرسہ رضائے مصطفیٰ تعلیم القرآن کو سن چوراسی میں مفت فراہم کیا گیا ہے۔ وزیر کے مطابق سیکٹر جی ٹین تھری میں مجلس فہم قرآن اور جی سکس فور میں امام بارگاہ کے لیے سن اٹھاسی میں دیے گئے مکانات کا ریکارڈ وزارت کے پاس بھی دستیاب نہیں ہے۔ سید صفوان اللہ نے ایوان میں پیش کردہ معلومات میں یہ بھی بتایا ہے کہ ایک سو چوبیس سرکاری مکانات صرف ایک سیکٹر جی سکس میں غیرقانونی قابضین کے پاس ہیں۔ ان قابضین میں پولیس سمیت مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین شامل ہیں۔ اسلام آباد میں جہاں سرکاری مکانات کی شدید قلت ہے اور سینکڑوں سرکاری ملازمین کی مکانات الاٹ کرنے کی درخواستیں وزارت ہاؤسنگ کے پاس التوٰی میں پڑی ہیں وہاں ایک طرف دو درجن مکانات مدارس اور مختلف تنظیموں کے زیر استعمال ہیں جبکہ دوسری جانب بڑی تعداد میں ناجائز قابضین ہیں جن سے مکان خالی کرانا آسان کام نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||