BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 09:52 GMT 14:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کے تمام مشیر برطرف

عدالت عالیہ
عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ تمام مشیروں اور معاونین کی مراعات ختم کردی جائیں
لاہور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کی تقرری کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف وزیراعلی کے لیے پانچ مشیر اور پانچ معاونین خصوصی کا تقرر کیا جاسکتا ہے۔

بدھ کو اپنے فیصلہ میں عدالت عالیہ کے جج حامد فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ پر حملہ کے الزام میں سزا یافتہ پنجاب حکومت کے دو مشیر اختر رسول اور میاں منیر آئندہ کے لیے بھی کسی سرکاری عہدے پر کام کرنے کے لیے نااہل ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ وزیراعلی کے لیے پانچ سے زیادہ مشیر اور پانچ سے زیادہ معاونین خصوصی کا تقرر نہیں کیا جاسکتا

پنجاب میں وزیراعلیٰ کے چھ اور صوبائی حکومت کے انیس مشیر اور چار معاونین خصوصی ہیں۔

عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ تمام مشیروں اور معاونین کی مراعات ختم کردی جائیں۔

جسٹس حامد فاروق نے یہ فیصلہ ایک رٹ درخواست پر سنایا جس میں لاہور میں نوناریاں (سمن آباد) کی ایک جامع مسجد کے خطیب ملک شاہ محمد نے پنجاب حکومت کی جانب سے مشیروں کے تقرر کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان میں سے دو مشیر اختر رسول اور میاں منیر وزیراعظم نواز شریف دور میں سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں سزا یافتہ ہیں۔

 جسٹس حامد فاروق نے یہ فیصلہ ایک رٹ درخواست پر سنایا جس میں لاہور میں نوناریاں (سمن آباد) کی ایک جامع مسجد کے خطیب ملک شاہ محمد نے پنجاب حکومت کی جانب سے مشیروں کے تقرر کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان میں سے دو مشیر اختر رسول اور میاں منیر وزیراعظم نواز شریف دور میں سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں سزا یافتہ ہیں

لاہور ہائی کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ صوبائی مشیروں کی قانونی حیثیت کے معاملے پر بھی سماعت کی۔

عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کے تمام مشیروں کو نوٹس جاری کیے تھے کہ وہ بتائیں کہ وہ کس قانون کے تحت اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔

عدالت عالیہ کے سامنے درخواست گزار کے وکیل شیخ شاہد مقبول نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ترانوے کے مطابق صرف صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے وفاقی حکومت کے لیے پانچ مشیر مقرر کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے لیےکسی مشیر کے تقرر کا کوئی ذکر نہیں۔

لاہور بار کے سابق صدر وکیل شیخ شاہد مقبول نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس کے تحت پانچ سے زیادہ مشیر مقرر نہیں کیے جاسکتے۔

عدالت عالیہ میں پنجاب کے سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ وزیراعلی پنجاب ان مشیروں کا تقرر اپنے صوابدیدی اختیارات اور رولز آف بزنس سنہ انیس سو چوہتر کی شق چھ اے کے تحت کرتے ہیں۔

نا اہل قرار دیے جانے والے ایک مشیر اختر رسول کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ مسلم لیگ کی سابقہ حکومت میں صوبائی وزیر تھے۔ میاں منیر لاہور کے ڈپٹی میئر اور مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔

اس رٹ کی سماعت شروع ہوتے ہی لاہور ہائی کورٹ نے اختر رسول اور میاں منیر کو ان کے عہدوں پر پر کام کرنے سے روک دیا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے مشیروں میں کرنل ریٹائرڈ شجاعت احمد خان، میجر ریٹائرڈ اصغر کلیار، نعیم رضا، رانا اعجاز احمد خان، ملک خالد محمود اور صبا صادق شامل ہیں۔

مشیروں میں وزیراعلیٰ کے دوستوں جیسے ایک نجی ہسپتال کے مالک جاوید اصغر، ان کی بیوی فائضہ جاوید اصغر، مسلم لیگ (نواز) سے منحرف ہوکر آنے والے افراد جیسے فرخ شاہ، حاجی حنیف، قیصر امین بٹ وغیرہ اور بی اے پاس نہ ہونے کی وجہ سے عام انتخابات نہ لڑ سکنے والے سیاستدان جیسے اللہ یار ہراج وغیرہ شامل ہیں۔

پنجاب حکومت اور وزیراعلی کے پچیس میں سے کم سے کم تیرہ مشیروں کا تعلق لاہور شہر سے ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت عالیہ کے زبانی احکام کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اب وزیر اعلی پنجاب اگر چاہیں تو نئے نوٹیفکیشن کے ذریعے پانچ مشیر اور پانچ معاونین خصوصی مقرر کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
رکن پنجاب اسمبلی نااہل
24 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد