رکن پنجاب اسمبلی نااہل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات کے چار سال بعد جمعہ کے دن لاہور ہائی کورٹ کے انتخابی ٹریبیونل نے جھنگ سے ایک سرکاری رکن پنجاب اسمبلی کو نا اہل قرار دے کر ان کا الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نشست پر نئے الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں امتیاز احمد لالی جھنگ کے حلقہ اسی سے سرکاری مسلم لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جس کے خلاف سنہ دو ہزار دو میں ان کے حریف غلام محمد لالی نے ایک انتخابی عذرداری دائر کی تھی۔ اس عذر داری میں کہا گیا تھا کہ امتیاز لالی پولیس میں سب انسپکٹر کی ملازمت سے دانستہ غیر حاظری کے باعث فارغ کیے گئے تھے اور یہ بات مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتی ہے جس کی بنا پر وہ قانون کے تحت الیکشن لڑنے کے اہل نہیں تھے۔ درخواست گزار نے یہ اعتراض کاغدات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ریٹرننگ افسر کے سامنے بھی اٹھایا تھا جنہوں نے امتیاز لالی کے کاغدات نامزدگی مسترد کردیے تھے لیکن لاہور ہائی کورٹ نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی تھی۔ آج لاہور ہائی کورٹ کے انتخابی ٹریبیونل کے جج سید زاہد حسین نے اپنے فیصلہ میں امتیاز لالی کے خلاف اعتراض کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کے کامیاب ہونے کا نوٹیفکیشن کالعدم کردے اور ان کی نشست پر نئے الیکشن کرائے جائیں۔ امتیاز لالی سنہ انیس سو ستانوے کے عام انتخابات میں بھی رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں راحیلہ ٹوانہ کی سند کا جھگڑا23 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||