BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راحیلہ ٹوانہ کی سند کا جھگڑا

ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ
نثار کھوڑو نے کراچی یونیورسٹی کے لیٹر ہیڈ پر جاری کیا گیا ایک سرٹیفیکٹ بھی صحافیوں میں تقسیم کیا
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ کی گریجویشن کی سند جعلی ہے، انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

وز


اپوزیشن کے رہنما نثار کھوڑو نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت حزب اختلاف کے ممبران کو نااہل قرار دینے کے لیئے تمام تر کوششیں کرتی رہی ہے مگر اپنی جماعت کے ان ممبران کے خلاف کبھی کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جنہوں نے غلط بیانی کی ہے الٹا ان کو دبایا گیا ہے۔

نثار کھوڑو نے کراچی یونیورسٹی کے لیٹر ہیڈ پر جاری ایک سرٹیفیکٹ بھی صحافیوں میں تقسیم کیا جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ راحیلہ ٹوانہ بنت فضل ربانی ٹوانہ کی بی اے کی سند جعلی ہے۔

یہ لیٹر کراچی یونیورسٹی کے اسٹنٹ کنٹرولر کے دستخط سے آٹھ اگست دو ہزار تین کو جاری کیا گیا ہے۔

نثار کھوڑو کے مطابق اب پارٹی صدر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ راحیلہ ٹوانہ کی رکنیت کے خلاف ریفرنس دائر کریں اس کے بعد وزیراعلیٰ اور سپیکر کا فرض ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر ہم قدم اٹھائیں گے۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس لیٹر کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ یہ پی پی پی کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔

ورنہ ہم قدم اٹھائیں گے
 اب پارٹی صدر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ راحیلہ ٹوانہ کی رکنیت کے خلاف ریفرنس دائر کریں اس کے بعد وزیراعلیٰ اور سپیکر کا فرض ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر ہم قدم اٹھائیں گے
نثار کھوڑو

ان سے سوال کیا گیا کہ یہ لیٹر تو کراچی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی کریں گی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے بی اے کے امتحانی سال اور سیٹ نمبر بتانے سے بھی انکار کیا۔

راحیلہ ٹوانہ کا کہنا ہے کہ آخری اجلاس میں پی پی پی اراکین نے تھوڑی پر ہاتھ پھرتے ہوئے اشارہ کیا تھا جس سے میں سمجھ گئی تھی کہ وہ کوئی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ مجھ ایسا لگ رہا ہے کہ خواتین کے خلاف کوئی گھناونی سازش کی جارہی ہے اور کوئی بڑا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔

راحیلہ ٹوانہ نے جو ایک بڑے عرصے تک پی پی پی سے وابستہ رہی ہیں نے کہا کہ مجھ پر کئی مرتبہ جملے کسے گئے ہیں اور امتیازی سلوک کیا گیا ہے کیا میں قوم کی بیٹی بہن نہیں ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اس حرکت کا جواب سیاسی طریقے سے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
بم خطرہ سے سندھ اسمبلی خالی
25 November, 2004 | پاکستان
سندھ اسمبلی میں گرما گرمی
18 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد