’پنجاب ترقیاتی بجٹ دگنا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے گزشتہ دو برسوں میں غربت میں گیارہ فیصد کی کمی آئی ہے اور ستر لاکھ لوگ غربت کی سطح سے باہر آگئے ہیں۔ وہ منگل کے روز لاہور میں پری بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پینتیس لاکھ نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبہ میں ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی مدد سے چھ نئی یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں اور اگلے پانچ برسوں میں اس مد میں ساٹھ ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ان کے مطابق اگلے مالی سال (سنہ دو ہزار چھ- سات) میں صوبہ کا ترقیاتی بجٹ ایک سو ارب روپے مالیت کا ہوگا جو گزشتہ سال ترپن ارب روپے کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچیس سال بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب کی کوئی منتخب اسمبلی مسلسل اپنا چوتھا بجٹ منظور کرنے جارہی ہے۔
وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں پنجاب نے بہت ترقی کی ہے اور سنہ انیس سو ننانوے دو ہزار میں پنجاب کے سالانہ بجٹ کا کل حجم صرف نوے ارب روپے تھا جبکہ اگلے مالی سال میں یہ حجم بڑھ کر تقریبا پونے تین سو ارب روپے ہوجائے گا۔ وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا ترقیاتی بجٹ پیش نہیں کیا گیا جو وہ پیش کرنے جارہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ چھ برس پہلے پنجاب میں ترقیاتی اخراجات فی کس ایک سو ستر روپے تھے جو اب بڑھ کر ایک ہزار ایک سو باون روپے ہوگئے ہیں۔ چھ برس پہلے صوبہ میں فی کس سالانہ آمدن اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے پچیس ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے تھی جو اس سال بڑھ کر انہی قیمتوں کے حساب سے بتیس ہزار آٹھ سو روپے اور نئی قیمتوں کے اعتبار سے باون ہزار روپے ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان میں دل کے امراض کا خصوصی کارڈیک ہسپتال اگلے دوماہ میں پوری طرح کام شروع کردے گا جبکہ فیصل آباد اور وزیرآباد میں بھی اس سال کے آخر تک دل کے ہسپتال کام شروع کردیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کی اکیس تحصیلوں میں فراہمی آب، پینےکے صاف پانی اور نکاسی آب کی اسکیمیں ساڑھے سات ارب روپے سے مکمل کی جائیں گی۔ جنوبی پنجاب کو آبادی کی نسبت زیادہ ترقیاتی رقوم فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ بھر میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے اگلے تین برسوں میں پینتالیس ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ میں آبپاشی کے سو سالہ پرانے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بیراجوں کی مرمت کی جارہی ہے اور نہروں کی ری ماڈلنگ اور ان کےکنارے پختہ کیئے جارہے ہیں۔ اس مد میں عالمی بینک حکومت کو ہر سال دس کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہروں پر فی الحال آٹھ مختلف مقامات پر چھوٹے پن بجلی گھر بنانے کا کام شروع کیا جارہا ہے اور آئندہ صوبہ بھر میں اڑتالیس ایسے پن بجلی گھر بنائے جائیں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ سب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ سڑکوں کی تعمیر کے لیے رکھا گیا ہے جس کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے سیالکوٹ تک موٹروے بنائی جائے گی، لاہور میں رنگ روڈ کا کام جاری ہے جس کی اگلے سال کے آخر تک کوئی شکل سامنے آجائے گی اور لاہور میں ماس ٹرانزٹ ٹرین شروع کرنے کے لیے سروے مکمل کرلیاگیا ہے۔ وزیراعلی نے صوبہ میں ضروری اشیاء کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے میونسپل مجسٹریٹوں کا تقرر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ |
اسی بارے میں پنجاب 36 ارب روپے کا ضمنی ’بوف‘29 June, 2004 | پاکستان کوئی نیا ٹیکس نہیں آئے گا: پنجاب 25 May, 2005 | پاکستان ضلعی حکومتوں پر پابندیاں25 June, 2005 | پاکستان ’سوسائیٹیوں کے خلاف تحقیقات‘29 June, 2005 | پاکستان پنجاب کے گیارہ اضلاع میں فوج22 August, 2005 | پاکستان پنجاب میں شہری دیہی تقسیم برقرار26 August, 2005 | پاکستان پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ15 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||