پنجاب: 500 افراد پر مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب میں لاؤڈ سپیکر کے قانون کے تحت مقدمات کے اندراج میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان میں سنی تنظیموں پر مشتمل اتحاد تحفظ ناموس رسالت محاذ کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی نے اس قانون کو غلط اور ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک اعلی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف مہم کے دوران اب تک کوئی پانچ سو کے قریب افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اور متعدد کو گرفتار کیاجاچکا ہے سب سے زیادہ سوا دوسو مقدمات لاہور میں درج کیے گئے۔ پنجاب پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چار روز قبل قوم سے صدر مشرف کے خطاب کے بعد سے لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف مہم میں شدت آئی ہے۔ صدر مشرف نے اپنے خطاب میں کہا تھا لاؤڈ سپیکر پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ قانون کے تحت اذان اور جمعہ کے عربی خطبے کے سوا لاؤڈ سپیکر کا استعمال غیر قانونی ہے۔ مفتی سرفراز نعیمی نے حالیہ گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے لاؤڈ سپیکر پر پابندی کا قانون ہی غلط ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عربی ہر کسی کو سمجھ نہیں آتی اس لیئے اسلام کے فروغ کے لیئے ہر ملک میں اس کی زبان میں خطبہ ہونا چاہیے صرف عربی میں خطبہ حکمت کے خلاف ہے اس لیئے اس قانون کو ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں جب تمام طبقوں میں سے مسجد کے امام یا عالم کو گرفتار کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ معاشرے میں ان کی عزت اور وقار کو گھٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس موقف کو رد کیا کہ لاؤڈ سپیکر پر فرقہ واریت پھیلائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت بند کمروں میں پھیلائی جاتی ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر صرف دین کی تبلیغ ہوتی ہے۔ سرفراز نعیمی پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں پر احتجاج کے سلسلے میں فروری میں گرفتار ہوئے اور چند ہفتے جیل میں رہنے کے بعد اب ضمانت پر رہا ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملک میں علماء کے کردارا کو محدود کر رہی ہے اور ان کے بقول یہ پابندی بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتاریوں کے اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔ مفتی سرفراز نعیمی نے کہا کہ سنی تنظیموں کے محاذ اس کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔ ادھراس پابندی پر عملدرآمد کی کا جائزہ لینے کے لیئے اتوار کو لاہور میں پنجاب پولیس کےافسران کا ایک اجلاس ہواتھا اور پیر کو پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل اسلام آباد موجود ہیں جہاں ان کے علاوہ چاروں صوبوں کے پولیس حکام وفاقی وزارت داخلہ میں اسی سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں مسجد پر حملہ،4 افراد کوسزائے موت10 December, 2004 | پاکستان لال مسجد پر پولیس چھاپہ17 August, 2004 | پاکستان مسجد کا معاملہ حل نہیں ہو سکا23 July, 2004 | پاکستان بادشاہی مسجد سے خود کشی17 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||