ایم کیو ایم کا پنجاب میں پہلا قدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ (سابق مہاجر قومی موومنٹ) یا ایم کیو ایم نے لاہور میں تیرہ اگست کو پہلا جلسہ عام منعقد کرکے پنجاب کی سیاست میں باضابطہ قدم رکھا ہے۔ ایم کیو ایم کے جلسہ میں شرکت کے لیئے کراچی اور سندھ کے شہروں سے پارٹی کے ہزاروں کارکن اور پرجوش حمایتی لاہور آئے۔ کچھ ہوٹلوں میں ٹھہرے، کچھ پارٹی کے مسلم ٹاؤن میں پنجاب آفس میں اور بہت سے سرکاری عمارتوں میں۔ جلسہ کا انتظام بہت منظم تھا۔ لاؤڈ سپیکر، کرسیاں، سٹیج، پنڈال کی حدبندی کے لیئے قناتیں اور آنے جانے والوں کی جامہ تلاشی کرنے کے لیئے ایم کیو ایم کا ڈی ٹیکٹرز سے لیس عملہ اور پانی اور طبی امداد کے کیمپ۔ ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ تقریباً چھ ہزار کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس جھنڈے تھے جنہیں لہرا کر وہ ایک سماں باندھ دیتے تھے۔ ایک دو ہزار لوگ پنڈال سے باہر جمع تھے۔ ایم کیو ایم کے لڑکوں کی ٹولیاں باہرفٹ پاتھوں اور گراؤنڈ میں گھوم پھر کر نعرے لگا رہی تھیں۔ مینار پاکستان پر عام طور پر ہر وقت ہزاروں لوگ جمع رہتے ہیں۔ تیرہ اگست کو اتوار کا دن تھا۔ چھٹی کے روز کا ہجوم اور زیادہ تھا۔ عام لوگ ایم کیو ایم کے جلسے میں جاتے نطر نہیں آئے۔ شکل و صورت اور حلیہ سے وہی لوگ زیادہ تر جلسہ گاہ میں دکھائی دیئے جن کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا۔ بہرحال لاہور کے عام لوگوں نے ایم کیوایم کے جلسے پر کسی منفی ردعمل کا اظہار بھی نہیں کیا۔ سرکاری عمارتوں میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی رہائش سے لگتا ہے کہ کسی سطح پر حکومت کا تعاون ایم کیوایم کو حاصل تھا۔ کم سے کم حکومت نے اس کے جلسہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ڈالی۔ پولیس کا حفاظتی انتظام بھی اچھا تھا۔ ایم کیو ایم کئی برسوں سے ملتان اور بہاولپور میں اردو بولنے والی مہاجر آبادی میں سرگرم ہے اور دو تین برسوں سے لاہور میں بھی کام کر رہی ہے۔ ایک اعتبار سے ایک ایسی جماعت جس نے علاقائی اور لسانی بنیادوں پر اپنا آغاز کیا اس کا ملک کے دوسرے حصوں میں جا کر خود کو منظم کرنے کی کوشش کرنا اورحمایت حاصل کرنا سیاسی عمل کا مثبت پہلو ہے اور وفاقی سیاست کو مستحکم کرنے کا باعث ہوسکتا ہے۔ پنجاب میں متوسط طبقہ میں ایسے لوگ ہیں جو سیاست میں سرگرم ہونا چاہتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی جماعتوں ۔ مسلم لیگ کے دھڑے اور پیپلز پارٹی ۔ میں پہلےسے موجود لوگ انہیں داخل نہیں ہونے دیتے یا ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کام کرسکیں۔ ایم کیو ایم کی ایک سیاسی تنظیم ہے جو ایسے لوگوں کو سیاست میں آنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے اور تنظیمی امداد سے یہ لوگ زیادہ پیسوں کے بغیر سیاست کرسکتے ہیں۔ تاہم ایم کیوایم کی صدر جنرل پرویز مشرف سے اتحاد کے باعث کئی مبصرین پنجاب میں اس کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایم کیوایم کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں پنجاب میں اس لیئے لایا گیا ہے تاکہ یہاں شہروں میں جنرل پرویز مشرف کی اتحادی جماعت اپنی جگہ بنا سکے۔ پنجاب کے دیہاتوں میں تو جو سیاستدان ہیں وہ خاصے جمے ہوئے ہیں اور برادری اور دھڑے بندی کی بنیاد پر ان کے اپنے حلقہ ہائے اثر ہیں۔ جو بھی جماعت حکومت میں ہو یہ دیہی شرفا اسی کا رخ کرلیتے ہیں جیسا کہ آج کل زیادہ تر لوگ سرکاری مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم کو بنیادی طور پر اگر کہیں سے حمایت میسر آسکتی ہے تو وہ پنجاب کے شہروں میں ہوسکتی ہے جہاں ایک بڑی تعداد میں سنہ انیس سو سینتالیس میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آنے والی آبادی مقیم ہے۔ خاص طور روہتک حصار کے علاقوں سے آنے والے لوگوں کا تشخص پنجابیوں سے مختلف ہے اور یہ لوگ چھوٹے شہروں جیسے سرگودھا، خانیوال، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، ملتان وغیرہ میں خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پنجاب کی اس مہاجر آبادی نے ساٹھ برسوں میں خود کو مقامی آبادی کے ساتھ جوڑنے کے لیئے جو کوشش کی ہے اس کے بعد یہ اپنے جداگانہ نسلی یا لسانی تشخص پر زور دینا چاہیں گے۔ بہرحال ایم کیو ایم بنیادی طور پر اردو بولنے والی مہاجر آبادی کی نمائندہ تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم پنجاب میں متوسط طبقے کے لوگوں کو تنظیمی اور مالی معاونت کے ساتھ ایک طبقاتی نعرے اور پروگرام کے ساتھ اپنے ساتھ ملائے جو تنظیم کے سربراہ الطاف حسین کی تقریر سے ظاہر بھی تھا۔ اگر یہ اس کوشش میں کامیاب ہوتی ہے تو یقیناً یہ پنجاب کی سیاست میں بڑی تبدیلی ہوگی۔ چونکہ اس وقت تو یوں ہی لگتا ہے کہ ایم کیوایم پنجاب کے شہروں میں زیادہ اثر انداز ہوسکتی ہے اس لیئے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی جماعتیں مسلم لیگ (نواز) اور پیپلز پارٹی ہو سکتی ہیں۔ عام انتخابات میں ایم کیوایم اگر پنجاب کے شہروں سے نشستیں نہ بھی لے سکے تب بھی حزب اختلاف کی جماعتوں کے ووٹ تو توڑ سکتی ہے۔ خاص طور سے ایسے ماحول میں جب اس کی تنظیم دوسری جماعتوں سے بہتر ہے اور الیکشن میں پیسہ کا کردار بڑھ گیا ہے۔ سرکاری مسلم لیگ شہروں میں پہلے ہی زیادہ منظم نہیں اور اس کی نشستیں بھی یہاں سے کم ہیں۔ اس لیئے اگر ایم کیو ایم شہروں میں سرگرم ہوتی ہے تو سرکاری جماعت کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ تعجب نہیں کہ حکومت پنجاب نے ایم کیو ایم کو لاہور میں جلسہ کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ حفاظتی انتظامات بھی فراہم کیئے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ایم کیو ایم پنجاب میں کتنی جگہ بنا پاتی ہے۔ تیرہ اگست کو اس کے پہلے جلسہ میں لاہور کی مقامی آبادی کی کم شرکت سے تو یوں لگتا ہے کہ فوری طور پر یہ ایک جماعت کے طور پر تو نہیں شاید ایک مؤثر گروپ کے طور پر تو پنجاب میں کوئی کردار حاصل کرلے۔ | اسی بارے میں ایم کیوایم کا لاہور میں پہلا جلسہ 14 August, 2006 | پاکستان حکومت، ایم کیو ایم معاملات طے03 August, 2006 | پاکستان ایم کیو ایم کی اہمیت03 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||