ایم کیو ایم کی اہمیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موممینٹ (ایم کیوایم) اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان بات چیت میں بار بار رخنہ آنے کے باوجود بالآخر مصالحت ہونے سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ صدر مشرف کے مفاد میں نہیں کہ وہ ایم کیو ایم کو حکومتی اتحاد سے الگ ہونے دیں۔ بدھ کو صدر مشرف نے ایم کیوایم کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین سے بذات خود بات چیت کرکے معاملات طے کیے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سندھ کے گورنر عشرت العباد کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے صوبائی اور وفاقی وزراء نے اپنے استعفے واپس لے لیے ہیں۔ پنجاب سے باہر ایم کیو ایم واحد بڑی سیاسی جماعت ہے جو کُھل کر صدر مشرف کی اتحادی ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کو اقتدار سے باہر رکھ کر صدر مشرف نے جوڑ توڑ کرکے جو سیاسی ڈھانچہ کھڑا رکھا ہوا ہے ایم کیو ایم اس کا لازمی حصہ ہے۔ ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں سترہ ارکان ہیں اور سندھ اسمبلی میں اکتیس۔ دوسری طرف، قومی اسمبلی میں سرکاری مسلم لیگ کی اکثریت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے منحرف ارکان پر مشتمل پیٹریاٹ کی مرہون منت ہے۔ جب اس اسمبلی میں پہلی بار میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو انہیں صرف ایک رکن کی اکثریت حاصل تھی۔ اس ماہ حزب مخالف کے دو بڑے اتحاد اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کسی بھی وقت وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کرچکے ہیں۔
جنرل مشرف اور ان کی اتحادی مسلم لیگ اعلان کرچکے ہیں کہ موجودہ اسمبلیاں ہی دوسری بار مشرف کو اگلے پانچ سال کے لیے صدر منتخب کریں گی اور وہ فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھیں گے۔ ایم کیو ایم کے حزب مخالف میں چلے جانے سے یہ انتخاب بھی ممکن نہیں کیونکہ صدر کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں پر بھی مشتمل ہے۔ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی امن و امان کی صورتحال پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیس سال کی تاریخ ہے کہ ایم کیوایم جب بھی اقتدار سے باہر تھی سندھ اور کراچی بدامنی کی لپیٹ میں رہے۔ اس وقت حکومت کو بلوچستان اور وزیرستان میں شدید بدامنی کا سامنا ہے اور ملک کے معاشی اور تجارتی مرکز کراچی میں ممکنہ بدامنی حکومت کی ساری معاشی پالیسیوں کو بھی الٹ پلٹ کرسکتی ہے۔ تعجب نہیں کہ صدر مشرف کے معتمد اور ان کی کچن کیبنٹ کے اہم رکن طارق عزیز کی الطاف حسین سے ناخوشگوار بات چیت کے بعد صدرمشرف کو خود ایم کیو ایم سے معاملات سلجھانے پڑے۔ |
اسی بارے میں بحران: وزیراعظم کو کراچی آنا پڑا28 July, 2006 | پاکستان سندھ بحران پر کراچی مذاکرات 29 July, 2006 | پاکستان صدر کی گورنر سندھ سے ملاقات 02 August, 2006 | پاکستان حکومت، ایم کیو ایم معاملات طے03 August, 2006 | پاکستان گورنر راج لگنے کی افواہیں01 August, 2006 | پاکستان گورنر سندھ کی اسلام آباد طلبی01 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||