جنرل زاہد علی اکبر کے وارنٹ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو لاہور کی ایک احتساب عدالت نے واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ یکم اگست کو احتساب عدالت نے انہیں ان کے خلاف دائر کیےگئے ایک ریفرنس میں انہیں پانچ اگست کو عدالت میں طلب کیا تھا لیکن وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ لاہور میں احتساب عدالت کے جج شفقات احمد ساجد کی عدالت میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے زاہد علی اکبر کے خلاف بدعنوانی کا ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ زاہد علی اکبر نے انیس سو ستاسی سے انیس سو بانوے تک جب وہ چیئرمین واپڈا اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تھے تو وہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث رہے۔ احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ان کے خلاف جو شواہد اکھٹے کیئے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ زاہد علی اکبر کے ستتر بینک کھاتوں میں سترہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جمع ہیں۔ یہ بینک کھاتے یا تو زاہد علی اکبر کے اپنے نام یا ان کے قریبی رشتہ داروں یا ان کی مختلف بزنس کمپنیوں کے نام ہیں۔ ان کے علاوہ زاہد علی اکبر نے انیس سو تراسی سے انیس سو اٹھانوے تک سات لاکھ چھ ہزار دو سو ڈالر جو چھالیس روپے فی ڈالر کی قیمت سے تین کروڑ چوبیس لاکھ روپے بنتے ہیں ملک سے باہر منتقل کیئے۔ احتساب بیورو کے مطابق یہ اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر زاہد علی اکبر احتساب عدالت میں پیش نہ ہوئے تو احتساب قانون کے تحت عدالت ان کو دانستہ روپوشی کے الزام میں سزا سناکر یہ ریفرنس داخل دفتر کرسکتی ہے۔ | اسی بارے میں جنرل زاہد علی اکبر کے سمن جاری31 July, 2006 | پاکستان بدعنوانی کا الزام: (ر) بریگیڈئرگرفتار 19 July, 2006 | پاکستان ’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘10 May, 2006 | پاکستان ’یہ بینظیر کی کردار کشی کی مہم ہے‘07 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||